Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

ایسے ہوٹل میں نوکری کرنا جس میں خنزیر کا گوشت کسٹمر کو دینا پڑے؟

 (181)

ایسے ہوٹل میں نوکری کرنا جس میں خنزیر کا گوشت کسٹمر کو دینا پڑے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے ذیل کے بارے میں کہ

زید ایسے جگہ پر کام کر رہا ہے جہاں پے سور کا گوشت بنتا ہے اور زید گوشت کو چمچ سے نکالتا ہے تو وہاں پے زید کو کام کرنا کیسا ہے اور لوگوں کو معلوم ہے کہ یہ گوشت اس چیز کی بنتی ہے اور جو زید گوشت میں ہاتھ لگا دیں تو کیا اس کو غسل کرنا پڑے گا یا ہاتھ دھو لے گا یا جہاں جہاں پہ لگا ہوا ہے اس کو دھو لے اور پاک ہو جائے گا کہ نہیں ہوگا؟

اور جو اس کی مہنے کے تنخواہ ہوگا تو کیا اس کا حلال ہوگا کہ نہیں؟

اس پر رہنمائی فرمائی قران و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائل محمد نسیم احمد قادری انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته 

الجواب بعونه تعالي عز وجل 

مذکورہ جگہ کام کرنا شرعا جائز نہیں ہے نوکری چھوڑ دے دوسری نوکری کریں۔

اگر خنزیر کے گوشت کو اپنے ہاتھ سے چھوا ہے تو ہاتھ دھل لیں غسل کی حاجت نہیں۔ 

جب نوکری جائز نہیں تو اجرت بھی حلال نہیں۔ 

فتاوی رضویہ میں ہے 

شراب کابنانا، بنوانا، چھونا، اٹھانا، رکھنا، رکھوانا، بیچنا، بکوانا، مول لینا، دلواناسب حرام حرام حرام ہے اور جس نوکری میں یہ کام یا شراب کی نگہداشت، اس کے داموں کا حساب کتاب کرنا ہو،سب شرعاًناجائز ہیں ۔ قال اللہ تعالیٰ: ﴿ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ)۔

۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 566،565، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

کفار بھی فروعات کے مکلّف ہیں۔چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے:

حرمۃ الخمر والخنزیر ثابتۃ فی حقھم کما ھی ثابتۃ فی حق المسلمین،لانھم مخاطبون بالحرمات وھو الصحیح عند اھل الاصول‘

ترجمہ:شراب اور خنزیر کی حرمت غیر مسلموں کے حق میں بھی بالکل اسی طرح ثابت ہے ،جس طرح مسلمانوں کے حق میں ثابت ہے ،کیونکہ وہ بھی محرمات کے مکلف ہیں اور یہی اہلِ اصول کے نزدیک صحیح ہے

۔ (بدائع الصنائع، کتاب السیر، جلد 6، صفحہ 83، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے:

صحیح یہ ہے کہ کفار بھی مکلّف با لفروع ہیں

۔(فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 382، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

کفار کو شراب پلانے کے متعلق ہدایہ شریف میں ہے 

ولا ان یسقی ذمیا ولا ان یسقی صبیا للتداوی والوبال علی من سقاہ‘‘ ترجمہ:ذمی اور بچہ کو دوا کے لیے (بھی )۔شراب پلانا ، جائز نہیں اور اس کا وبال پلانے والے پر ہو گا ۔ ‘‘

۔(الھدایہ، کتاب الاشربہ، جلد 4، صفحہ 503، مطبوعہ پشاور)

بہار شریعت میں ہے 

’کافر یا بچہ کو شراب پلانا بھی حرام ہےاگرچہ بطورِ علاج پلائے اور گناہ اسی پلانے والے کے ذمہ ہے ۔بعض مسلمان انگریزوں کی دعوت کرتے ہیں اور شراب بھی پلاتے ہیں وہ گناہ گار ہیں ،اس شراب نوشی کا وبال انہیں پر ہے (بہارشریعت ج 3، صفحہ 672، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

 اورنا جائز کام کی نوکری کے متعلق موسوعہ فقہیہ کوییتہ میں ہے:

اتفقوا علی انہ لا یجوز للمسلم ان یؤجر نفسہ للکافر لعمل لا یجوز لہ فعلہ کعصر الخمر ورعی الخنازیر وما اشبہ ذلک‘‘ ترجمہ: فقہاء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسلمان کا کافر کے پاس ایسے کام کے لیے اجیر ہونا ، جائز نہیں جو کام اس کے لیے شرعاً جائز نہ ہو، جیسے شراب (کے لیے انگور) نچوڑنا، خنزیروں کو چرانا اور اسی طرح کے دیگر ناجائز افعال ۔ ‘‘

۔(موسوعہ فقھیہ کویتیہ، جلد 19، صفحہ 45، مطبوعہ کویت)

صدر الشریعہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا کہ دو مسلمان ایسے ہوٹل میں ملازم ہوئے کہ جس میں خنزیر کا گوشت پکتا تھا اور بھی ہر قسم کا گوشت پکتا تھا۔ ان دونوں میں سے ایک کا کام ڈھکی ہوئی رکابی اٹھا کر دوسرے مسلمان کو دینا اور دوسرے کا کام میز پر رکھنا تھا، لیکن دونوں کو علم نہ تھا کہ اس ڈھکی ہوئی رکابی میں کیا ہے، تو اب ان دونوں کے حق میں کیا حکم ہے؟ تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا : ” جبکہ یہ معلوم تھا کہ اس ہوٹل میں خنزیر کا گوشت پکتا ہے اور ان دونوں کے متعلق یہ کام تھا کہ کھانا میز تک پہنچائیں، تو ایسے ہوٹل میں انہیں ملازمت ہی نہ چاہیے تھی، توبہ کر کے برادری میں شامل ہو جائیں۔ حدیث میں ہے: التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ 

۔(فتاوی امجدیہ، جلد 3، صفحہ 270 تا 271، دار العلوم امجدیہ، کراچی)

فتاوٰی بحرالعلوم میں سوال ہوا:’’ایک غیر مسلم کی شراب کی دوکان ہے، اس میں زید بحیثیت ملازم نوکری کرتا ہے،حالانکہ زید شراب و غیرہ نہیں پیتا،تو کیا اس طریقے سے شراب کی دوکان میں ملازمت کرکے رزق حاصل کرنا جائز ہے یا ناجائز؟‘‘

جواب میں ہے:’حدیث شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنت فرمائی۔بنانے والا،پینے والا،اور اٹھانے والا، اور جس کے پاس اٹھا کر لائی گئی،بیچنے والا، اور اس کے دام کھانے والا، پلانے والا ،خریدنے والا،اور جس کے لئے خریدی گئی۔ جس سے ظاہر ہے کہ شراب کی دوکان کی ملازمت خبیث ہے اور اس کی کمائی حرام ہے۔‘‘   

۔(فتاوٰی بحرالعلوم،ج 4،صفحہ33،شبیر برادرز،لاہور)                  

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

كتبه/ محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے