Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

کیا سعودی عرب میں مقیم شخص 12 ذی الحجہ کو انڈیا میں قربانی کراسکتا یے؟

 (244)

کیا سعودی عرب میں مقیم شخص 12 ذی الحجہ کو انڈیا میں قربانی کراسکتا یے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ  

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص جو جزیرة العرب میں مقیم ہے اور وہاں کی تاریخ کے مطابق بارہ ذو الحجہ کی شام تک وہ قربانی نہیں کرسکا لہذا اس نے ہندوستان میں اپنے ایک عزیز کو وکیل بنایا کہ اس کی طرف سے قربانی کر دی جائے اور ہندوستان میں أیام نحر کا آخری دن (بارہ ذو الحجہ) ہے تو کیا جزیرة العرب میں مقیم شخص کی طرف سے قربانی ہو جائے گی یا نہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائلہ سعدیہ فاطمہ شہر ناگپور مہاراسٹر انڈیا فقہی مسائل براے خواتین شرعی سوال جواب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمده ونصلي علي رسوله الكريم 

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعونہ تعالی عز وجل 

مسئلہ مسئولہ میں دونوں ملکوں میں قربانی کے جو ایام مشترکہ ہوں ان ایام میں قربانی کی جائے تو قربانی ہوجائے گی اگر کسی ایک ملک میں بھی قربانی کا دن نہیں ہوگا، تو قربانی ادا نہیں ہوگی۔

اگر آدمی خود کسی اور ملک میں ہو اور قربانی کے لیے کسی کو  دوسرے ملک میں وکیل بنائے تو اس صورت میں قربانی کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قربانی دونوں ممالک کے مشترکہ ایام میں ہو، یعنی جس دن قربانی کی جائے وہ دن دونوں ممالک میں قربانی کا مشترکہ دن ہو، ورنہ قربانی درست نہیں ہوگی۔

سعودی میں مقیم انڈیا میں قربانی پہلے اور دوسرے دن کراتا ہے تو صحیح ہوگا؛ کیوں کہ یہ دونوں دن سعودی عرب میں قربانی کے دوسرے اور تیسرے دن ہوں گے، اس اعتبار سے یہ دونوں دن دونوں ممالک میں قربانی کے مشترکہ دن ہوں گے، لیکن سعودی عرب میں رہنے والے شخص کی قربانی انڈیا میں قربانی کے تیسرے دن  صحیح نہیں ہوگی، کیوں کہ انڈیا قربانی کا تیسرا دن سعودی عرب میں عید کا چوتھا دن ہونے کی وجہ سے قربانی کا دن نہیں ہوگا؛ کیوں کہ قربانی کے ایام صرف تین ہیں، چنانچہ اگر سعودی عرب میں رہنے والے شخص نے تین دن تک قربانی نہیں کی تو چوتھے دن انڈیا میں کسی کو قربانی کرنے کا وکیل بنانے کے بجائے اب قربانی کے بقدر رقم صدقہ کر دے۔

بہار شریعت میں ہے 

قربانی واجب ہونے کا سبب وقت ہے جب وہ وقت آیا اور شرائط وجوب پائے گئے قربانی واجب ہوگئی اور اس کا رکن ان مخصوص جانوروں میں  کسی کو قربانی کی نیت سے ذبح کرنا ہے (بہارشریعت )

حاصل کلام یہ ہے کہ اگر کوئی سعودیہ میں مقیم شخص وہاں کی ۱۲/ ذی الحجہ کی شام (غروب آفتاب) تک قربانی نہیں کرسکا تو وہ ہندوستان میں یا کسی بھی جگہ اپنی قربانی نہیں کراسکتا اگرچہ وہاں ابھی قربانی کا آخری دن(۱۲/ ذی الحجہ) باقی ہو۔صحیح مسئلہ یہی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے 

(وسببھا الوقت) وھو أیام النحر،…… (فتجب) التضحیة أي: إراقة الدم من النعم،……(علی حر مسلم مقیم) … (موسر) … (شاة) … (أو سبع بدنة) … (فجر)، نصب علی الظرفیة … (یوم النحر إلی آخر أیامہ) وھي ثلاثة أیام أفضلھا أولھا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الأضحیة، ۹: ۴۵۳- ۴۵۸)

رد المحتار میں ہے 

قولہ:”وسببھا الوقت“: أي: سبب الحکم ما ترتب علیہ الحکم مما لا یدرک العقل تأثیرہ ولا یکون بصنع المکلف کالوقت للصلاة،…وذکر فی النھایة :…ثم حقق أن السبب ھو الوقت؛ لأن السبب ھو الوقت إنما یعرف بنسبة الحکم إلیہ وتعلقہ بہ، …،والدلیل علی سببیة الوقت امتناع التقدیم علیہ کامتناع تقدیم الصلاة،وإنما لم تجب علی الفقیر لفقد الشرط، وھو الغنی وإن وجد السبب اھ، وتبعہ فی العنایة والمعراج۔……قولہ:”نصب علی الظرفیة“:أي:لقولہ: ”تجب“:، وھذا بیان لأول وقتھا مطلقاً إلخ (رد المحتار)۔

بدائع الصنائع میں ہے 

وأما وقت الوجوب فأیام النحر، فلا تجب قبل دخول الوقت؛ لأن الواجبات الموٴقتة لا تجب قبل أوقاتھا کالصلاة والصوم ونحوھما، وأیام النحر ثلاثة إلخ (بدائع الصنائع، کتاب الأضحیة، ۶: ۲۸۵، ط: دار الکتب العلمیہ بیروت)۔

درر الحکام في شرح غرر الأحکام میں ہے 

وسببھا الوقت وھو أیام النحر(درر الحکام في شرح غرر الأحکام، کتاب الأضحیة، ۱:۲۶۶)

غنیة میں ہے 

قولہ: ”وسببھا الوقت“: لا نزاع في سببیتہ، قولہ: ”وھو أیام النحر“:من إضافة السبب إلی حکمہ، یقال: یوم الأضحی کقولھم یوم الجمعة ویوم العید کذا في العنایة (غنیة ذوي الأحکام، في بغیة درر الحکام)۔

المختار مع الاختیار میں ہے 

وتختص بأیام النحر ، وھي ثلاثة : ……، فإن مضت ولم یذبح؛ فإن کان فقیراً وقد اشتراھا تصدق بھا حیة، وإن کان غنیاً تصدق بثمنھا، اشتراھا أو لا۔ ویدخل بطلوع الفجر أول أیام النحر إلا أن أھل المصر لا یضحون قبل صلاة العید (المختار مع الاختیار، ۴: ۲۶۰، ۲۶۱، ط:دار الرسالة العالمیة)۔

المبسوط للسرخسي میں ہے 

ثم أول وقت الأضحیة عند طلوع الفجر الثاني من یوم النحر؛إلا أن في حق أھل الأمصار یشترط تقدیم الصلاة علی الأضحیة؛ فمن ضحی قبل الصلاة في المصر لا تجزئہ لعدم الشرط لا لعدم الوقت، ولھذا جازت التضحیة في القری بعد انشقاق الفجر، ودخول الوقت لا یختلف في حق أھل الأمصار والقری الخ (المبسوط للسرخسي،باب الأضحیة، ۱۲: ۱۰، ط:دار المعرفة بیروت)، 

ومثلہ في الاختیار لتعلیل المختار، واللباب في شرح الکتاب والشرنبلالیة ورد المحتار وغیرھا من کتب الفقہ۔

والله ورسوله أعلم بالصواب 

كتبه محمد مجیب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونڈیشن ضلع سرہا نیپال

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے