Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

سونار کے پاس زیور بنانے کے لیے ایک لاکھ روپیہ جمع یے تو کیا اس رقم سے قربانی واجب ہے؟

 (253)

سونار کے پاس زیور بنانے کے لیے ایک لاکھ روپیہ جمع یے تو کیا اس رقم سے قربانی واجب ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

ھندہ کی  والدہ نے تین سال قبل سونے کا ہار بنانے کے لیے ارڈر دیا تھا پھر تھوڑی تھوڑی رقم‌جمع کرتی رہیں اب ایک لاکھ روپیے جمع ہوچکے ہیں سونار والے کے پاس اب سونار کہے ہیں ایک ماہ بعد وہ ہار بناکر دے دیں گے تو ابھی وہ ہار ھندہ کے پاس ایا نہیں ہےتو کیا ھندہ  پر قربانی واجب ہوگی؟ شرعی رہنمائ فرمائیں نوازش ہوگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائلہ ۔ سعدیہ فاطمہ شہر ناگپور انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمدہ ونصلی علی رسوله الکریم

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ 

الجواب بعونه تعالیٰ عزوجل

واضح رہے کہ کسی شخص (مرد ہو یا عورت) کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہے تو مالک نصاب ہے. یونہی سونا چاندی اس سے کم ہیں، لیکن ان دونوں کو ملا کر دونوں کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو بھی وہ صاحب نصاب ہے . ایسے ہی سونے یا چاندی کو کسی دوسرے مال کے ساتھ ملا کر ،اُن دونوں کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو بھی وہ مالک نصاب ہے. یونہی کسی شخص کی ملکیت میں حاجتِ اصلیہ (یعنی وہ چیزیں جن کی انسان کوحاجت رہتی ہے، جیسے رہائش گاہ ، خانہ داری کے وہ سامان جن کی حاجت ہو،سواری اور پہننے کے کپڑے وغیرہ ضروریاتِ زندگی) سے زائد اگر کوئی ایسی چیز ہے جس کی قیمت تنہا یا سونے یا چاندی کے ساتھ مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو وہ بھی نصاب کا مالک ہے.اور قربانی کے ایام میں جو بھی مرد یا عورت حاجتِ اصلیہ سے زائد نصاب کے مالک ہوں، ان پر قربانی واجب ہے.

لہذا مذکورہ صورت میں ہندہ کی ماں پر اگر کوئی قرض وغیرہ نہیں ہے تو پھر ہندہ کی ماں پر قربانی واجب ہے 

فتاوی شامی میں ہے:

وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر).

(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم.

(فتاوی شامی كتاب الأضحية، جلد ۹ ص: ۴۵۲,۴۵۳)

فتاوى  هندية  میں ہے:

وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية،ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان

(الفتاویٰ ہندیہ جلد اول ص: ۲۱۰)

سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں : 

قربانی واجب ہونے کے لیے صرف اتنا ضرور ہے کہ وہ ایام قربانی میں اپنی تمام اصل حاجتوں کے علاوہ 56 روپیہ(اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کے دور میں رائج چاندی کا نصاب) کے مال کا مالک ہو، چاہے وہ مال نقد ہو یا بیل بھینس یا کاشت، کاشتکار کے ہل بیل اس کی حاجت اصلیہ میں داخل ہیں ، ان کا شمار نہ ہو

۔(فتاوی رضویہ،جلد ۲۰،ص ۳۷۰ ، رضافاونڈیشن ، لاھور)

بہار شریعت میں ہے

جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کےسوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو ، جس کی قیمت دوسو درہم ہو ، وہ غنی ہے ، اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان ، جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور  خادم اور پہننے کے کپڑے ، ان کے سوا جو چیزیں ہوں ، وہ حاجت سے زائد ہیں

۔(بہار شریعت ح ۱۵، ص ۳۳۵) 

والله و رسوله اعلم بالصواب

كتبته اسدیہ قادریہ بینی آباد مظفرپور بہار۔ گروپ خواتین کے مسائل کا شرعی حل

تصحیح و تصدیق حضرت مفتی محمد مجیب قادری حنفی العربی دار الافتاء البرکاتی علماء فاؤنڈیشن شرعی و جواب

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے