Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

حالت نماز میں کپڑا صحیح کرنا کیسا ہے؟

 (170)

حالت نماز میں کپڑا صحیح کرنا کیسا ہے؟ 


السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبركاتہ

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کیا نماز کی حالت میں کپڑے وغیر صحیح کر سکتے ہیں؟ یعنی نماز میں اٹھنے بیٹھنے میں دامن بار بار سیدھا کرے تو کیا حکم ہے؟ کیا کچھ حرج نہیں؟ جلد جواب عطا فرمائیں۔ 

المستفتی: محمد مشتاق احمد رضوی

وعليكم السلام ورحمۃ اللہ وبركاتہ

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

نماز میں کپڑے کے ساتھ کھیلنا مکروہ تحریمی ہے ۔ ہندیہ میں ہے یکرہ للمصلی ان يعبث بثوبه " (ہندیہ ج : ا/ص : ۱۰۵ /الفصل الثانی فیما یکرہ فی الصلاة و مالا بیکره)

لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے کپڑا درست کرنا پڑے تو مکروہ نہیں ہے، اسی طرح رکوع سے اٹھ کر کپڑا ٹھیک کرنا اگر اس وجہ سے ہے کہ اٹھنے کے بعد کپڑا سرین کے درمیان دب جاتا ہے جس کی وجہ سے دیکھنے والے کو کراہت محسوس ہوتی ہے یا کسی دوسرے عذر کی وجہ سے کرتا ہو تو مکروہ نہیں ہے، اور سجدہ میں جاتے وقت پائجامہ کھینچنا اگر کسی پریشانی کی وجہ سے ہو تو کراہت نہیں ہے۔ ہندیہ میں ہے کل عمل هو مفيد لا بأس به للمصلى “ہر وه عمل جو مفید ہو اس کے کرنے میں نمازی کے لئے کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر بلا وجہ ایسا کرتا ہے تو مکروہ تحریمی ہے ۔ ہند یہ ہی میں ہے ومالیس بمفید یکرہ جو مفید نہ ہو وہ کام کرنا مکروہ ہے ۔(ایضاً) ایک رکن میں تین بار کھجانے سے نماز جاتی رہتی ہے، یعنی یوں کہ ایک بار کھجا کر ہٹا لیا۔پھر کھجایا پھر ہٹالیا وعلی هذا اور اگر ایک بار رکھ کر چند مرتبہ حرکت دی تو ایک ہی مرتبہ کھجانا کہا جائے گا۔ ہندیہ میں ہے اذاحك ثلاثا في ركن واحد تفسد صلوته هذا اذا رفع يده في كل مرة اما اذا لم يرفع في كل مرة فلا تفسد " " (ايفاس : ۱۰۴)

فتاویٰ مسائل شرعیہ جلدسوم 

والله اعلم بالصواب

محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے