Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

پان تمبا کو کھا کر تلاوت قرآن کرنا کیسا ہے؟

 (8)



پان تمباکو کھا کر تلاوت قرآن کرنا کیسا ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله و بركاتہ

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ پان تمبا کو کھانا کیسا ہے؟ نیز منھ میں رکھ کر تلاوت قرآن شریف کرنا اور وظائف کا پڑھنا کیسا ہے ؟

🔷🎤 المستفتی: سلمان رضا فیضی🎤🔷

🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

الجواب بعون الملک الوہاب

📝 پان و تمباکو اتنا کھائے کہ اگر کلی کرلے اور بو نہ آئے تو مباح ہے۔ کھا سکتے ہیں۔ اور کلی کرنےکے بعد بو باقی رہے تو مکروہ ہے۔ اور اگر اتنا کھائے کہ حواس باختہ ہو جائے تو حرام ہے۔ جیسا کہ شیخ الاسلام والمسلمین اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمة والرضوان تحریر فرماتے ہیں ، بقدر ضررو احتلال حواس کھانا حرام ہے۔ اور اس طرح کہ منھ میں بو آنے لگے مکروہ اور اگر تھوڑی خصوصاً مشک وغیرہ سے خوشبو کرکے پان میں کھائیں اور ہر بار کھا کے کلیوں سے خوب منھ صاف کر دیں کہ بو آنے نہ پائے تو خالص مباح ہے، ہوئی حالت میں کوئی وظیفہ نہ کرنا چاہئے منھ اچھی طرح صاف کرنے کے بعد ہو۔ اور قرآن عظیم تو حالت بدبو میں پڑھنا اور بھی سخت ہے۔ ہاں جب بد بو نہ ہو تو درود شریف و دیگر وظائف اس حالت میں بھی پڑھ سکتے ہیں کہ منھ میں پان یا تمباکو ہو اگرچہ بہتر صاف کر لینا ہے لیکن قرآن عظیم کی تلاوت کے وقت ضرور منھ بالکل صاف کرلیں فرشتوں کو ( تلاوت ) قرآن عظیم کا بہت شوق ہے۔ اور عام ملائکہ کو تلاوت کی قدرت نہ دی گئی۔ جب مسلمان قرآن پڑھتا ہے فرشتہ اس کے منہ پر منہ رکھ کر تلاوت کی لذت لیتا ہے اس وقت اگر منھ میں کھانے کی کسی چیز کا لگاؤ ہوتا ہے فرشتوں کو ایذا ( تکلیف ) ہوتی ہیے

۔ رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم یہ فرماتے ہیں 

📋طيبواافواهكم بالسواك فان افواهكم طريق القرآ ن 

رواه السنجرى من الإبانة عن بعض الصحابة رضى الله تعالى عنهم بسند حسن) 

یعنی اپنے منھ مسواک سے ستھرے کرو کہ تمہارے منھ قرآن عظیم کا راستہ ہیں ۔


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں

📋 ( اذا قام احد كم يصلى من الليل فليستك ان احدكم اذا قراء في صلاته وضع ملك فاه على فيه ولا يخرج من فيه شي الادخل فم الملك . بن عبد الله رضى الله تعالى عنهما وهو حديث صحيح) 

يعنى جب

تم میں کوئی تہجد کو اٹھے مسواک کرلے کہ جو نماز میں تلاوت کرتا ہے فرشتہ اس کے منھ پر اپنا منھ

رکھتا ہے جو اس کے منھ سے نکلتا ہے فرشتہ کے منھ میں داخل ہوتا ہے۔

اور دوسری حدیث میں ہے

📋 ( لیس شئی اشد على الملك من ريح الثمر ما قام عبد الى صلواة قط الا التقم فأه ملك ولا يخرج من فيه اية الايدخل في فمه الملك)

 یعنی فرشتہ پر کوئی چیز کھانے کی بو سے زیادہ سخت نہیں ۔ جب کبھی مسلمان نماز کو کھڑا ہوتا ہے فرشتہ اس کا منہ اپنے منہ میں لے لیتا ہے جو آیت اس کے منھ سے نکلتی ہے فرشتے کے منھ میں داخل ہوتی ہے


 (📗احکام شریعت حصہ اول 📗)

 لہذا منہ میں پان تمباکو رکھ کر

 قرآن شریف و دیگر اوراد و وظائف و

غیرہ نہیں کرناچاہئےکہ خلاف ادب ہے

(📗اسی طرح فتاوی مسائل شرعیہ جلد اول صفحہ ۲۱۹ میں ہے 📗)

. . . . واللہ تعالی اعلم با الصواب

کتب العبد محمد عتیق الله صدیقی فیضی یار علوی ارشدی عفی عنہ 

✏️کتبہ محمد افروزاحمدمجاہدی 

اسی طرح اور مسائل جاننے کے لیے لنک پر کلک کریں

👇👇👇

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com/


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے