(17)
عزت بچانےکے لئےخودکشی کرناکیسا ہے
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کوئی مسلم لڑکی اپنی عزت بچانے کے لئے خود کشی کر سکتی ہے؟۔
(🎤المستفتى :غلام علی یارعلوی اتروله🎤)
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
کوئی بھی لڑکی اپنی عزت بچانے کے لئے خود کشی نہیں کر سکتی ہے کیوں کہ جان بچانے کی فرضیت کے مقابلے عزت بچانا فرض نہیں حدیث پاک میں ہے
("اذا التزام الشرين فاختر اهو نھما ")
اور یہاں مذکورہ صورت میں اہم جان بچانا ہے اور اھون بے عزت ہونا ہے، اس لئے بحکم حدیث بے عزتی کو ترجیح دی جائے گی اور اہم الفرائض یعنی جان بچانا بھی ہو جائے گا ۔ اگر کوئی اس کی عزت جبرالوٹ رہا ہے تو مکمل کوشش کرے اپنے آپ کو بچانے کے لئے بچ جائے تو ٹھیک ہے ورنہ کوئی بات نہیں اس کا گناہ اس لڑکی پر نہیں ہو گا بلکہ جو عزت لوٹ رہا ہے۔ اس پر ہوگا اور اگر اپنی عزت بچانے کے لئے اپنی جان دے گی تو ضرور گنہگار ہوگی جیسا کہ بہار شریعت میں ہے کہ اگر اس کو مجبور کیا گیا کہ تو اپنا عضو کاٹ ڈال ورنہ میں تجھے قتل کر ڈالوں گا تو اس کو ایسا کرنے کی اجازت ہے اور اگر اس پر مجبور کیا گیا کہ تو خود کشی کر لے ورنہ میں تجھے مار ڈالوں گا اس کو خودکشی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
(۔📗بہار شریعت جلد سوم حصه ۱۵ص نمبر ۱۹۳ ناشر مکتبہ المدينہ باب المدینہ کراچی دعوت اسلامی)
جب یہاں اس کو خود کشی کرنے کے لئے حکم دے رہا ہے کہ کرو ورنہ مار دوں گا پھر بھی اجازت نہیں تو وہاں کیوں کر اجازت ہو سکتی ہے اور اپنی عزت دینے کی صورت میں گنہگار نہیں ہوگی۔ اور اگر وہ خود کشی ہی کرلے گی تو اس کے بعد توبہ بھی نہیں کر پائے گی جب کہ عزت جانےکے بعد تو بہ بھی کر سکتی ہے اور اللہ پاک تو بہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔
والله تعالى اعلم بالصواب
۔(📗ماخوذاز فتوی مسائل شرعیہ جلد اول صفحہ نمبر٣٨٨/۳۷٧)
۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور مسائل پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں

0 تبصرے