(11)
گارنٹی یا وارنٹی کی شرط کے ساتھ موبائل کی خرید و فروخت کیساہے
بِسْمِ اللّٰهِِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْم
اصول فقہ کا یہ ضابطہ ہے کہ ”ہر وہ شرط جو بیع (خریدو فروخت)کےخلاف ہواوراس میں عاقدین (خریدنے اور بیچنے والا) میں سے کسی کا نفع ہو، وہ شرط بیچ کو فاسد کر دے گی ۔ البتہ اگر وہ شرط متعارف ہو اور اہل زمانہ کا اس پر تعامل ہو تو وہ بیچ و عقد جائز رہے گا۔ کیوں کہ عرف و تعامل ، قیاس پرحجت ہے ، ان کی وجہ سےقیاس کوچھوڑ دیا جائے گا۔“
علامہ برہان الدین مرغینانی فرماتے ہیں:
۔(📋 كل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين يفسده إلاأن يكون متعارفا ؛ لأن العرف قاض على القياس .)
۔(📗هداية آخرين،ج ۳، ص: ٤٣ ،مجلس بركات،مبارک پور)
اصل مذہب کے مطابق اور مذکورہ ضابطہ کے تحت گارنٹی یا وارنٹی کی شرط کے ساتھ موبائل کی خرید و فروخت نا جائز ہے ۔ “ کیوں کہ یہ شرط عقد بیع کے خلاف ہے اور اس سے عاقدین میں سے خریدار کو نفع پہنچتا ہے۔ لیکن اب عرف و تعامل کی وجہ سے اس شرط کے ساتھ موبائل کی خرید و فروخت جائز ہے۔ کیوں کہ اس قسم کی خرید و فروخت پر اب لوگوں کا تعامل ہو چکا ہے اورعرف عام میں اس طریقئہ بیع کوغلط نہیں سمجھاجاتا ہے۔
لہذا جس طرح گھڑی، انوائٹر، فریج، واشنگ مشین، شوٹ کیس اور کولر وغیرہ مختلف قسم کی جدید مشینوں اور نئی ایجادات میں گارنٹی یا وارنٹی کی شرط اصل مذہب کے لحاظ سے ناجائز اور اب تعامل ناس کی وجہ سے جائز ہے۔ اسی طرح گارنٹی یا وارنٹی کی شرط کےساتھ موبائل کی خرید وفروخت بھی جائزو درست ہے۔
بہار شریعت میں ہے :
یاوہ شرط (بیع کی ) ایسی ہے، جس پر مسلمانوں کا عام طور پر عمل درآمد ہے۔ جیسے آج کل گھڑیوں میں گارنٹی سال دو سال کی ہوا کرتی ہے کہ اس مدت میں خراب ہو گئی تو درستی کا ذمہ بائع (دوکاندار ) ہے۔ ایسی شرط بھی (بیع میں ) جائز ہے ۔ “
۔( 📗 بهار شریعت حصه : ۱۱ ، ج: ۲، ص: ۷۰۱ ، مكتبة المدينه، دهلي.)
۔(📗موبائل فون کےضروری مسائل ص ۴۵)
۔📝کتبہ محمدافروزاحمدمجاہدی۔
اسی طرح اور مسائل جاننے کے لیے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
/https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے