(10)
چھڑوااورچڑھاوےکابکراذبح کرکےکھاناکیسا ہے؟
مسئلہ کیافرماتےہیں علمائےدین وملت اس مسئلہ میں : بچھڑاچھڑوا یا غیرچھڑوا یا چڑھاوا کا بکرا کسی قصائی مسلمان سے ذبح کرا کر کھانا جائز ہے یا نہیں؟ جو کوئی جان بوجھ کرکبھی کبھارکھاتارہے اس کےبارےمیں کیاحکم ہے؟
۔(🎤المستفتی: محمد عمار رضا مدرسہ حنفیہ محلہ عالم خان، نواب یوسف روڈ ،جونپور🎤)
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب چھڑوا بچھڑا چھوڑنے کی وجہ سے حرام نہیں ہو جاتا۔اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے:
( ما جَعَلَ الله مِن بَحِيرَةٍ وَلَا سَابِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ وَلَكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يَفْتَرُونَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ ، وَأَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ )
اللہ نے مقرر نہیں کیا ہے کان چرا ہوا اور نہ بجار (سانڈ ) اور نہ وصیلہ اور نه حامی ہاں کافرلوگ اللہ پر جھوٹ افترا باندھتے ہیں اور ان میں اکثر نرے بے عقل ہیں
(📗سورہ مائدہ/۱۰۳)
زمانہ جاہلیت میں کفار کان چرے ہوئے اور سانڈ وغیرہ کو حرام سمجھتے تھے اس آیت کریمہ میں ان کے اس اعتقاد کو باطل کر دیا گیا ہے اور یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ کافر لوگ اللہ پر جھوٹا افترا باندھتے ہیں۔
۔📋 خزائن العرفان میں اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو حرام نہیں کیا اس کی طرف اس کی نسبت غلط ہے۔
اور ان کو نرا بے عقل کہنے کی توجیہ خزائن العرفان میں یہ فرمائی کہ یہ اپنے سرداروں کے کہنے سے ان چیزوں کو حرام سجھتے ہیں اتنا شعور نہیں رکھتے کہ جو چیز اللہ اور اس کے رسول نے حرام نہ کی اس کو کوئی حرام نہیں کر سکتا ۔ اور آج کل انہیں کی روش پر وہابی ، دیوبندی بدمذہب بھی چل رہے ہیں خدائے پاک انہیں عقل سلیم اورہدایت اسلام دے۔
اور چھوڑنے کی وجہ سے وہ چھوڑنے والے کی ملک سے نکلتا بھی نہیں بلکہ اس کی ملکیت باقی رہتی ہے
کیونکہ چھوڑتے وقت کوئی یہ نہیں کہتا کہ جو اسے پکڑلے وہ اس کا مالک ہو جائے گا۔ اس کی نیت تو صرف یہی رہتی ہے کہ یہ بچھڑا ہمیشہ آزاد پھرتا رہے۔ لہذا یہ چھوڑنے والے کی ملکیت میں بدستور باقی رہتا ہے۔
فتاوی عالمگیر یہ میں ہے :
📋(لوسیب دابته وقال لا حاجة لى اليها ولم يقل هي لمن أخلها فأخذهاانسان لا تكون له
. ( 📗ج ۳۸۲،۴، الباب الثالث فيما يتعلق بالتحليل)
اس تفصیل کی روشنی میں اس کا حکم یہ ہوا کہ اگرخود مالک اسے کسی سے ذبح کرائے تو وہ جانور بھی حلال ہوگا اور اس سے خرید کر اس کو کھانا بھی حلال ہوگا ۔ اور اگر کسی اجنبی نے مالک کی اجازت کے بغیر اسے پکڑ کر کسی مسلمان سے ذبح کرایا تو جانور ذبح سے حلال تو ہو جائے گا مگر مالک کی اجازت کے بغیر دوسروں کو اس کا گوشت خریدنا، پیچنا اور کھانا حلال نہ ہوگا کہ یہ ملک غیر میں ناحق تصرف ہے جیسے کوئی آدمی کسی کا چاول غصب کرلے تو اسے پکا کر کھانا حرام ہوتا ہے ویسے ہی یہ بھی حرام ہوگا کہ ذبیحہ حلال ہے۔ یہی حکم اس جانور کا بھی ہے جو چھوڑا ہوا نہ ہو کہ اس پر تو بدرجہ اولی مالک کی ملکیت باقی ہے۔
اور چڑھاوے کا بکرا جسے ہندو مندروں میں بتوں پر چڑھانے کے لیے لے جاتے ہیں اگر کسی مسلمان نے اللہ عزوجل کے لیے اس کا نام پاک لے کر اس کے مالک کی اجازت سے ذبح کیا تو وہ جانور حلال تو ہو جائے گا مگر مسلمان کے لیے ایسا کرنا مکروہ ہے اور اس کا گوشت نہ لینا چاہئے کیونکہ اس میں کافر کے زعم کے مطابق اس کے مقصد باطل کو پورا کرنا ہے۔
۔📋فتاوی رضویہ میں ہے: "ذبح میں ذابح کی نیت شرعا معتبر ہے، اگر کافر اپنے معبودوں کے لیے ذبح کرائے مسلمان اللہ عزوجل کے لیے اس کا نام پاک لے کر ذبح کرے جانور حلال ہو جائے گا مگر یہ عمل مسلمان کے لیے مکروہ ہے اور اس کا گوشت اس سے لینا بھی نہ چاہئے کہ اس میں کافر کے زعم میں اس کے مقصد باطل کا پورا کرتا ہےاور یہ گوشت اس کی طرف سے تصدق لینا ہے۔
۔( واليد العليا خير من اليد السفلى ولا ينبغي ليد كافر ان تكون اعلى من يد مسلم والمسئلة منصوصة عليها في العالمكيرية)
والتاتارخانية انه يحل ويكره للمسلم
(📗 ج ۸، ص: ۳۳۸/۳۳۷)
واللہ تعالی اعلم۔
(📗فتاوی مرکز تربیت افتاءجلد دوم صفحہ ۳۱۳📗)
الجواب صحیح: محمد نظام الدین رضوی برکاتی
الجواب صحیح: محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
كتبه : محمد وقار علی احسانی علیمی
۔📝کتبہ محمدافروزاحمدمجاہدی
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com/2024/10/blog-post_3.html
اسی طرح اور مسائل کو جاننے کے لیے لنک پر کلک کریں

0 تبصرے