Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

جہری اورسری نمازکی کیاحقیقت ہے؟

 (46)


(جہری اورسری نمازکی کیاحقیقت ہے؟)


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

۔مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نماز ظہر و عصر میں امام آہستہ قرآت کیوں کرتا ہے اور باقی نمازوں میں زور سے اس کی کیا وجہ ہے؟ ۔

(🎤المستفتی: -رجب القادری🎤)

🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

مفسر قرآن مؤلف نور الانوار استاذ اورنگ زیب عالمگیر شیخ ملا احمد جیون علیہ الرحمة و رضوان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نماز میں قرآن شریف کی تلاوت کے وقت آواز بلند کر لیا کرتے تھے جب مشرکین سنتے تو لغویات باتیں کہتے جس پر اللہ تعالی نے آپ کو اس آیت کریم

۔(وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَا تِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَبْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيْلٙا) 

اور اپنی نماز نہ بہت آواز سے پڑھو نہ بالکل آہستہ اور نہ ان دونوں کے بیچ میں راستہ چاہو ۔

۔ (📗کنزالایمان ،بنی اسرائیل ۱۱۰)

 اس آیت کریمہ کے ذریعہ حکم دیا کہ اپنی آواز آہستہ کر لیں ۔ 

۔(📗تفسیرات احمدیہ صفحہ ٦٩١)

اور خزائن العرفان میں اسی مقام پر ہے کہ مشرکین جب قرآن پاک سنتے تو اللہ پاک و سر کار مصطفی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وحضرت جبرئیل علیہ السلام کو گالیاں دیتے اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، چونکہ ان دونوں وقتوں میں یعنی ظہر و عصر میں کفار و مشرکین آوارہ گھومتے تھے اور مغرب کے وقت کھانے پینے میں مشغول ہوجاتے عشاء میں سو جاتے اور فجر میں جاگتے ہی نہ تھے اس لئے ان دونوں وقتوں میں قرآت کا آہستہ حکم ہوا اب اگر چہ وہ حالت نہیں ہے مگر حکم وہی ہے تاکہ سنی مسلمان اس مغلوبیت کو یاد کر کے غلبئہ اسلام پر اللہ تعالی کا شکر ادا کریں 

۔(📗ماخوذازفتاویٰ مسائل شرعیہ جلددوم صفحہ ٢٧٨)

واللہ تعالی اعلم بالصواب

۔📝 کتب محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنےکےلئے اس لنک پر کلک کریں

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے