Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

احتلام سے غسل فرض کیوں قرار دیا گیا؟

 (45)


( احتلام سے غسل فرض کیوں قرار دیا گیا؟)


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

۔مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ احتلام ہونے سے غسل فرض کیوں قرار دیا۔گیا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی۔

(🎤المستفتی : مولانا رفیق بہرائچ شریف یوپی🎤)

🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته 

بسم الله الرحمن الرحيم 

الجواب بعون الملك الوهاب

چونکہ حالت شہوت میں منی جب اپنی جگہ سے نکل کر باہر آتی ہے تو پورے جسم کو لذت حاصل ہوتی ہے اس لئے پورے جسم کو دھو نے یعنی غسل کا حکم دیا گیا ہے۔ فتاوی فیض الرسول میں ہے کہ: قرآن مجید میں جنب کے متعلق مبالغہ کا صیغہ آیا ہے جیسا کہ پارہ ۶ رکوع ۶ میں ہے۔

(وان کنتم جنبا فاطهروا) 

اور اس میں طہارت کے لئے حکم وضو کی طرح بعض اعضاء کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا جس سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ پورے بدن کی طہارت مطلوب ہے اور اس کی عقلی و جہیں تین ہیں ۔

اول : یہ کہ انزال منی کے ساتھ قضائے شہوت میں ایسی لذت کا حصول ہوتا ہے کہ جس سے پورا بدن متمع ہوتا ہے اس لئے اس نعمت کے شکرانے میں پورے بدن کو دھونے کا حکم ہوا اسی سبب سے وجوب غسل کے لئے

( علی وجہ الدفق والشهوة) 

کی قید ہے کہ بغیر ان کے لذت کا حصول نہیں ہوتا اسی لئے اس صورت میں وضو واجب ہوتا ہے نہ کہ غسل ۔

دوسری:: وجہ یہ ہے کہ جنابت پورے بدن کی قوت سے حاصل ہوتی ہے اسی لئے اس کی زیادتی کا اثر پورے جسم سے ظاہر ہوتا ہے لہذا جنابت سے پورا بدن ظاہر و باطن بقدر امکان دھونے کا حکم ہوا اور یہ باتیں پیشاب وغیرہ میں نہیں پائی جاتی ہیں۔

تیسری:: وجہ یہ ہے کہ بارگاہ الہی میں حاضری کے لئے کمال نظافت چاہئے اور کمال نظافت پورے بدن کے غسل ہی سے حاصل ہو گا مگر پیشاب وغیرہ جس کا وقوع کثیر ہے اس میں خدائے تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے بندوں کی آسانی کے لئے وضو کو غسل کا قائم مقام کردیا اور جنابت کا وقوع چونکہ کم ہے اس لئے اس میں پورے بدن کا دھونا لازم قرار دیا گیا جیسا کہ 

۔(📗تفسیر روح البیان جلد دوم صفحه ۳۵۵ /اور بدائع الصنائع جلد اول صفحہ ٣٦)میں ہے ۔ 

۔(📗فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ١٦٧) 

۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ ١٨٠)

والله تعالیٰ اعلم

۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنےکےلئے اس لنک پر کلک کریں

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے