(44)
( تعداد رکعت میں شک ہو تو کیا حکم ہے؟ )
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید نماز پڑھ رہا ہے دوران نماز اسے شک ہوا کہ تین رکعت ہو ئے یا چار تو اب کیا کرے؟ مفصل جواب عنایت فرمائیں
(🎤المستفتى : فیصل ربانی🎤)
🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
صورت مسئولہ میں تحری کرے جیسا کہ کتب فقہ میں ہے اگر رکعت کے شمار میں بھول ہو گئی تو غالب گمان کر کے اسی پر بنا کرے سجدہ سہو کی ضرورت نہیں مگر غیر محل میں اتنی دیر تک سوچتا رہا جس میں ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کے مقدار تاخیر ہو گئی تو اس تاخیر کی وجہ سے اس پر سجدہ سہو واجب ہو گا اور اگر غالب گمان کسی طرف نہیں تو کم اختیار کرے مثلاً تین اور چار میں شک ہو تو تین مانے دو اور تین میں شک ہو تو دو قرار دے اور تیسری اور چوتھی رکعت پر قعدہ کرے کیوں کہ تیسری رکعت میں چوتھی کا احتمال باقی ہے پھر چوتھی میں قعدہ کر کے سجدہ سہو کرے سلام پھیر دے۔
۔(📗در مختار جلد اول صفحہ ۷۰۵ حدایه بهار شریعت جلد ۴ صفہ ۵۷)
کسی کو التحیات پڑھنے کے بعد یہ شک ہوا کہ تین رکعتیں ہوئیں یا چار اور تین بار سبحان اللہ کہنے کے مقدار سوچتا ر ہا پھر یقین ہو گیا کہ چار ہوگئی ہیں تو اس صورت میں بھی اس پر سجدہ سہو واجب ہے اور اگر ایک طرف سلام پھیرنے کے بعد ایسا ہوا تو کچھ نہیں
۔(📗 بہار شریعت جلد ۴ صفحہ۵٧)
۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلددوم صفحہ ٣٠۴)
والله تعالى اعلم بالصواب
۔📝 كتب محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنےکےلئے اس لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے