Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

کیاحضرت بلال کواذان دینے سے منع کر دیا گیا تھا ؟

 (43)


۔(کیاحضرت بلال کواذان دینے سے منع کر دیا گیا تھا ؟ )۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

۔مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ کا جو واقعہ ہے اذان کے متعلق اس واقعہ کوتفصیل کےساتھ ارسال فرمائیں مہربانی ہوگی۔

۔(🎤المستفتی: - غلام دستگیر نظامی کوٹہ وبوندی🎤)

🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

 بسم الله الرحمن الرحيم 

الجواب بعون الملک الوہاب

حضرت بلال کی اذان کے متعلق ایک موضوع بے اصل واقعہ کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی تعریف و توصیف میں مندرجہ ذیل واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بار حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ اذان پڑھ رہے تھے مگر لفظ شین صحیح طریقے سے استعمال نہیں کر پارہے تھے جس پر کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے بارگاہ نبوت میں شکایت کی کوئی دوسرا مؤذن مقرر کیا جائے سرکار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا مؤذن مقرر فرمایا جب حضرت بلال نے اذان نہ دی تو صبح ہی نہیں ہوئی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر کروٹ بدلتے بدلتے پیٹھ دکھنے لگی مگر صبح ہی نہیں ہو رہی اتنےمیں حضرت جبرئیل امین حاضر ہوتے ہیں اور عرض کرتے ہیں یارسول اللہ جب تک بلال اذان نہیں دیں گے صبح نہیں ہوگی سین بلال عند اللہ شین ہے 

یہ واقعہ قوال و کم واقف مولوی حضرات سناتے ہیں یہ کچھ کتب میں درج ہے لیکن تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ روایت موضوع من گھڑت اور بالکلیہ جھوٹ ہے۔

۔(📗فتا و شارح بخاری ج ۲ ص ۳۷/ ۳۸)

اور یہ حدیث بیان کرنا کہ رسول پاک نے فرمایا سین بلال عند اللہ شین بلال کی سین بھی اللہ کے نزدیک شین ہے۔ اس حدیث کو حضرت مولانا علی قاری مکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نےموضوع ومن گھڑت کہا ہے ۔ 

۔(📗موضاعات کبیر صفحه ۳۳، بحوالہ فتاوی بحر العلوم ج ۵ ص ۳۸۰) 

بلکہ حضرت علامہ شیخ محمد طاہر پٹنی علیہ الرحمہ نے سیدنا حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کےبارے میں یہاں تک تحریر فرمایا ہے

۔(کاندی الصوت حسنة وفصيحة ولوكان فيه لثغة لتوفرت الدواعي على نقلها وعابها أهل النفاق) .

 یعنی حضرت بلال بلند آواز خوش گلو اور فصیح زبان والے تھے اگر آپ کی زبان میں تو تلا پن ہوتا تو کثرت کے ساتھ منقول بھی ہوتا۔اور منافقین بھی اس کو بطور عیب بیان کرتے ۔ 

۔(📗 تذکرۃ الموضوعات ج اول ص ۱۰۱)

مذکورہ دلائل سے معلوم ہوا کہ یہ واقعہ حدیث کی مستند کتابوں میں کہیں نہیں حقیقت یہ ہے کہ حضرت بلال نہایت بلند آواز اور خوش گلو تھے ۔ 

۔(📗ماخوذاز فتاویٰ مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ ٢۵٨)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنےکےلئے اس لنک پر کلک کریں

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے