Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

نماز میں اگر جماہی آئے تو کیا کریں؟

 (63)


(نماز میں اگر جماہی آئے تو کیا کریں؟)


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نماز میں اگر جماہی آئے تو کیا کریں؟جواب عنایت فرمائیں

المستفتی: - محمد غفران رضا اڑیس

🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷🔶🔷

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

نماز میں جماہی آتے وقت منھ کو بند کئے رہنا مستحب ہے جہاں تک ممکن ہو سکے جیسا کہ علامہ ابو الاخلاص حسن بن عمار الشرنبلالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں( و کظم فمه عند التثاؤب)

۔(📗نور الايضاح من ادابهاالصلوة صفحه ۷۵)

حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ جماہی آئے تو منھ بند کئے رہنا اور اگر جماہی نہ رکے تو ہونٹ کو دانت کے نیچے دبائے اور اس سے بھی نہ رکے تو قیام میں داہنے ہاتھ کی پشت (سیدھے ہاتھ کی پیٹھ ) سے منھ کو ڈھانک لے اور غیر قیام مطلب رکوع وسجدہ وقعدہ وغیرہ میں جماہی آئے تو بائیں ہاتھ کی پشت یعنی الٹے ہاتھ کی پیٹھ سے منھ کو ڈھانک لے یا دونوں ہاتھوں میں آستین سے ڈھانک لے ۔

۔ (📗بہار شریعت حصہ سوم صفحہ 538 العلمية المدينة دعوت اسلامی )

۔(📗ماخوذازفتاویٰ مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ ٣٢٨) 

والله تعالى اعلم 


۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی

 اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com





ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے