Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

نابالغ بچہ کا اذان دینا کیسا ہے؟

 (37)


?نابالغ بچہ کا اذان دینا کیسا ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

۔مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نابالغ بچے کی اذان کا کیا حکم ہے؟ جب کہ وہ ہوشیار ہو۔


🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸


(🎤المستفتى : - عبد الله نظامی🎤)


وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

نابالغ سمجھ دار بچہ اگر صحیح طور پر اذان دینے پر قادر ہے تو اس کا اذان دینا جائز ہے ، البتہ بالغ مرد کا اذان دینا افضل ہے۔ 

جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے۔ 

۔(اذان الصبي العاقل صحیح من غير الكراهة في ظاهر الرواية ولكن اذان البالغ افضل)

یعنی ظاہر روایت میں سمجھ دار بچہ کی اذان بلا کراہت درست ہے لیکن بالغ کا اذان پڑھنا افضل ہے 

اور بہار شریعت میں حضور صدر الشریعہ بدر ا لطریقہ علامہ مفتی محمد امجدعلی اعظمی رضوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : سمجھ والا بچہ اور غلام اور اندھے اور ولدالزنا اور بے وضو کی اذان صحیح ہے۔

۔(📗بہار شریعت جلد اول حصہ سوم صفحه ۴۶۶)

اور اسی طرح فتاوی فیض الرسول میں استاذ الفقہاء حضور فقیہ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: نابالغ لڑکا اگر مجھدار ہے تو اس کی اذان درست ہے ۔ بہار شریعت میں ہے کہ سمجھ والا بچہ، غلام ، اندھے، اور ولد الزناء کی اذان صحیح ہے ۔ 

در مختار میں ہے ويجوز بلا كراهة اذان صبى مراهق . اھ- 

رد المختار میں ہے : المرادبه العاقل وان لم يراهق كما هو ظاهر البحر وغيره . اھ 

 اور سمجھ دار بچہ کی پہچان یہ ہے کہ لوگ اس کی اذ ان کو اذان سمجھیں کھیل نہ سمجھیں ۔ 

(فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ ۱۸۲)

اور فتاوی فقیہ ملت میں ہے : سمجھدار بچہ کی اذان بلا شبہ درست ہے ایسا ہی بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۳۱ پر در مختار کے حوالے سے ہے : کہ اذان کے مسئلہ میں سمجھ دار بچہ کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں بلکہ اس کا معیار یہ ہے کہ لوگ اس کی اذان سنیں تو اس کو کھیل نہ سمجھیں ۔ 

حضرت علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : يصح اذان الكل سوى الصبى الذى لا يعقل لانه من سمعه لا يعلم انه مؤذن بل يظنه يلعب بخلاف الصبي العاقل 

۔(📗فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ ۹۳)

 اور فتاوی شرعیہ میں ہے : 

اگر نابالغ لڑکا سمجھدار ، صاحب عقل و تمیزجس کی آوازپر لوگوں کواعتماد ہوتو وہ اذان کہہ سکتا ہے ۔ 

۔(📗فتاوی شرعیہ جلد اول صفحه ۳۰۳)

 والله اعلم بالصواب

۔(📗ماخوذازفتاویٰ مسائل شرعیہ جلددوم صفحہ ٢٠۵)

۔📝 كتب محمدافروز احمد مجاہدی

اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنےکےلئے اس لنک پر کلک کریں

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے