Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

مغرب میں اذان اور جماعت کے پیچ کتنا فاصلہ ہونا چاہئے؟

 (38)


۔مغرب میں اذان اور جماعت کے پیچ کتنا فاصلہ ہونا چاہئے؟۔


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته


۔مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اذان مغرب اور جماعت کے بیچ کتنا وقفہ کرنے کی اجازت ہے اگر دو چار نمازی وضو کر رہے ہوں اور امام ان کے انتظار میں چار یا پانچ منٹ کا وقفہ روزانہ کرے تو کیا حکم ہے؟ مع حوالہ مشکور فرمائیں۔


(🎤المستفتي : غلام علی لکھیم پوری🎤)


🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹


وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته


 بسم الله الرحمن الرحيم 


الجواب بعون الملک الوہاب


تقریبا اذان کے بعد پندرہ بیس منٹ کا فاصلہ ہر جگہ رکھا گیا ہے تا کہ اذان سن کر لوگ اپنی ضروریات مثلا استنجا وضو سے فارغ ہو کر سنت ادا کر سکیں علاوہ مغرب کے ہاں متعینہ وقت ہونے کے بعد اگر جماعت کے آدمی موجود ہو تو وقت مستحب سے زیادہ انتظار کی ضرورت نہیں بلکہ بعض دوسرے مقتدیوں کو گراں گزرے تو انتظار منع ہے اور مغرب میں تاخیر کرنی مکروہ ہے پھر جتنی تاخیر ہوگی کراہت بڑھتی جائے گی۔

لہذا ایسی صورت میں جماعت کے آدمی موجود ہونے پر دوسرے بعض نمازیوں کے لئے انتظار کرنا اور جماعت کو مؤخر کرنا جائز نہیں حتی کہ اگر خود جماعت تاخیر ہونے والی ہو تو تنہا نماز پڑھ لے اور تاخیر کی کراہت سے بچے ۔ 


۔(📗فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ ۷ ۱۷) 


روز ابر ( جس دن بادل ہو ) کے سوا مغرب میں ہمیشہ تجیل مستحب ہے اور دو رکعت سے زائد کی تاخیر مکروہ تنزیہی ہے ۔ اور اگر بغیر عذر سفر و مرض وغیرہ اتنی تاخیر کی کہ ستارے گتھ گئے تو مکروہ تحریمی ہے ۔ 


۔(📗حوالہ درمختار جلد اول صفحہ 246 /فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ 48 بہار شریعت جلد اول حصہ سوم صفحه ۱۹ مطبوعہ قادری کتاب گھر بریلی شریف)

اگر امام جان بوجھ کر تاخیر کرتا ہے اور لوگوں کا انتظار کرتا ہے۔ تا کہ لوگ خوش ر ہیں۔ تو ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے امام صاحب کو کوئی دانا بینا شخص سمجھائے تا کہ امام صاحب مذکورہ فعل سے باز آجائیں اور وقت مقررہ پر جماعت قائم کریں: اور امام صاحب اپنی اس حرکت سے تو بہ واستغفار کریں۔ اور اگر امام صاحب تو بہ واستغفار کرنے سے انکار کریں اور بضد مذکورہ فعل سے باز نہ آئیں جس کی وجہ سے بعض مقتدی متنفر ہو جائیں تو باعزت امام صاحب کو معزول کر دیں۔ اور نمازوں کی حفاظت کریں ۔ کیونکہ ایسے امام کی اقتدا میں نماز پڑھنا درست نہیں ۔ جس میں کراہت پائی جائے ۔


۔(📗ماخوذ از فتاوی مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ ٢٣۴/٢٢٣)


 واللہ اعلم بالصواب


۔📝  محمد افروز احمد مجاہدی


اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنےکےلئے اس لنک پر کلک کریں

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے