Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

کیابعد دفن قبر پر اذان دینا درست ہے؟

 (39)


۔کیابعد دفن قبر پر اذان دینا درست ہے؟۔


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته


۔🌹🌹مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ آج کل قبرستان میں دفن کرنے کے بعد جو قبر پر اذان دی جاتی ہے کیا یہ درست ہے بکر کہتا ہے کہ جائز ہے اور زید کہتا ہے کہ جائز نہیں ؟ اس مسئلہ کا قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت کریں جزاک اللہ خیرا🌹🌹۔


(🎤المستفتى : سجاد رضا نعیمی🎤)


🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹


وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته 


بسم الله الرحمن الرحيم 


الجواب بعون الملک الوهاب


بکر کا قول درست و با صواب ہے اور زید خطا پر ہے۔ بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، 

۔(عن أبي هريرة إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وله ضُراط، حتى لٙا يٙسْمع التَّأْذِينَ، فَإِذا قضى النداء أقبل، حتى إذا ثُوِّبَ بالصَّلاةِ أدبر، حتى إذا قضى التَّثْوِيبَ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ المَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ: اذْكُرْ كَذا اذكر كذا لِما لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى يَظَلّٙ الرَّجُلُ لا يٙدْرِي كَمْ صَلَّى البخاري)


۔(📗صحیح البخاری )


یعنی جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز کرتا ہوا بجھا سکتا ہے۔ الخ


اور صیح مسلم کی روایت میں یوں ہے 


۔(عن جابر بن عبد الله إنَّ الشَّيْطَانَ إذا سمع النداء بالصَّلاةِ ذَهَبَ حتى يكون مكانَ الرَّوْحاءِ. قَالَ سُلَيمانُ: فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرّٙوْحاءِ فَقَالَ : هي مِنَ المَدِينَةِ سِنَّةٌ وَثَلاثُونَ مِيلًا ")


۔(📗 صحیح مسلم)


یعنی شیطان جب اذان سنتا ہے تو بھاگ کر مقام روحاء تک چلا جاتا ہے . اور روحاء مد بینہ شریف سے چھتیس میل جو تقریبا ۵۹ کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔

میت کو قبر میں رکھنے کے بعد جب منکر نکیر کا سوال ہوتا ہے تو شیطان خلل انداز ہو کر مردے کو بہکاتا ہے اس لئے اذان دے کر اسے بھگایا جاتا ہے اس کے علاوہ اس اذان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں جس کی تفصیل سیدی اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی مستقل ایک رسالہ مبارکہ، ایذان الاجر فی اذان القبر میں موجود ہے بعض قبروں پر بعد دفن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تکبیر کہنا ثابت ہے زمانہ رسالت میں اس طرح کی اذان قبر پر ثابت نہیں یہ بعد کی ایجاد ہے جو جائز و درست ہے. جیسے کہ قرآن پاک کے تیس پارے بنانا، اسے معرب کرنا. فقه ، اصول فقه ، اصول حدیث، علم کلام، ایمان مجمل وغیرہ وغیرہ. یہ سب کچھ نہ تھا مگر بعد میں مدون و مروج ہو کر جائز ومستحسن قرار پایا۔ اسی طرح قبر پر اگرچہ مروج اذان نہ ہوتی تھی مگر اس میں کثیر

فوائد ہیں اس لئے جائز و مستحسن ہے۔ 


۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ ٢٢٩)


واللہ اعلم بالصواب


۔📝 كتب محمد افروز احمد مجاہدی


اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنےکےلئے اس لنک پر کلک کریں

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com




ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے