(40)
(قبل اذان درود پڑھنا کہاں سے ثابت ہے؟)
السلام عليكم ورحمته الله وبركاته
۔مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اذان سے قبل درود شریف پڑھنا کہاں سے ثابت ہے؟۔
(🎤المستفتی: محمد ارشاد عالم🎤)
🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
درود و سلام ہر جگہ ہر وقت ہر گھڑی پڑھنا جائز ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے
ِاِنّٙ الّٰلهٙ وملٰئكَتَه يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
بیک الله اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر دروداورخوب سلام بھیجو
(کنزالایمان، سورہ احزاب آیت نمبر ۵۶)
اس آیت میں کسی وقت کسی جگہ کو معین نہیں کیا گیا بلکہ مطلق ارشاد ہے کہ خوب درود و سلام پڑھو پھر اذان سے پہلے پڑھنے پر اعتراض کیوں ؟ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بنی نجار کی ایک عورت سےروایت کیااس نےکہا کہ میرا گھر مسجد نبوی کے گرد طویل ترین گھر تھا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ میرےگھرکی چھت پر فجر کی اذان دیتے تھے۔ پس آپ سحر کے وقت آجاتے، چھت پر بیٹھ کر طلوع صبح صادق کو دیکھتے رہتے ، پس جب آپ دیکھتے کہ صبح صادق کی روشنی پھیل گئی ہے تو پھر یہ کلمات پڑھتے :
۔(الهُمَّ إِنِّى أَحْمَدُكَ وَاسْتَعِينُكَ عَلَى قُريْشِِ أن يُقِيمُوا ديْنٙكٙ ")
اے اللہ تعالیٰ میں تیری حمد کرتا ہوں اور تجھ سے مدد چاہتا ہوں اس بات پر کہ قریش تیرے دین کو قائم کریں پھر اذان دیتے ۔ انصاری عورت نے کہا کہ خدا تعالی کی قسم ! میں نہیں جانتی کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ایک رات بھی یہ کلمات چھوڑےہوں۔
۔(📗سنن ابی داؤد، جلد اول اس سے ٧۷۷ )
حضرت امام حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ اس حدیث کی اسناد حسن ہے
۔ (📗 الدرایہ ص ۱۲۰)
اگر اذان سے پہلے کچھ پڑھنا یا درود و سلام پڑھنے سے اذان میں اضافہ ہو جاتا ہے اور و
اذان دعوت ناقص واقع ہوتی ہے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے متعلق کیا کہا جائے گا؟ انصاری عورت کہتی ہے کہ میرے علم کے مطابق انہوں نے کبھی اذان سے پہلے ان کلمات کو نہیں چھوڑا ۔ کیاحضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی اذان کو اللھم سے شروع سمجھا جائے گا؟ رفتہ رفتہ اذان کا سلسلہ چلتا رہا۔ بالآخر سلطان ناصر الدین ایوبی علیہ الرحمہ نے اذان سے پہلے درود وسلام کی ابتداء کروائی
حضرت امام سخاوی اپنی کتاب ("القول البدیع) میں فرماتے ہیں کہ حضرت صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ کے دور میں اذان سے پہلے الصلاةو السلام علیک یا رسول اللہ پڑھتے تھے۔
اس امت کے چار بڑے بڑے محدثین جنکو تمام مسلمان مانتے ہیں، انہوں نے اذان سے قبل درود و سلام کو جائز لکھا ہے ۔
۔ (۱ ) حضرت امام شعرانی علیہ الرحمہ نے اپنی تصنیف کشف الغمہ میں جائز لکھا۔
۔(۲) حضرت امام حجر شافعی علیہ الرحمہ نے اپنی فتاوی کی کتاب فتاوی کبری میں جائز لکھا۔
۔(۳) حضرت امام ملا علی قاری علیہ الرحمہ نے مشکوۃ کی شرح مرقات میں جائز لکھا۔
۔(۴) حضرت امام شامی علیہ الرحمہ نے فتاوی شامی میں اذان سے پہلے اور اذان کے بعد اوراقامت سے پہلے درود و سلام پڑھنے کو جائز لکھا ہے۔
نوٹ:۔ اذان سے قبل درود وسلام پڑھنے کو بدعت والے کوئی ایک محدث کابھی حوالہ نہیں دے سکتے
۔(📗ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلد دوم صفحہ ٢٣٢/٢٣١)
واللہ اعلم بالصواب
۔📝 محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اوربھی مسائل پڑھنےکےلئے اس لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے