(77)
(کسی بد عقیده کا نکاح پڑھانا کیساہے)
سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ۔۔ اگر کوئی امام کسی بد عقیدہ کا نکاح پڑھا دے جب کہ وہ اسکی بد عقیدگی سے آگاہ بھی ہو اور ا سے آگاہ کرنے پر وہ سارا جرم ٹرسٹیز پر مڑھ دیتا ہے کے انکے کہنے پر میں نے عمل کیا۔ تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ؟ برائے کرم تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل۔ محمد شعیب کڑو تارا پورممبئی
الجواب بعون الملک الوہاب
کسی ٹرسٹیز کے کہنے پر بھی کسی بد عقیدہ کا نکاح پڑھانا ہرگز جائز نہیں فقیه اعظم هند حضور صدر الشريعه عليه الرحمه تحریر فرماتے هیں
جو حکم شرعا ناجائز ہے اس میں کسی کی پیروی جائز نہیں، حکم شرع کو سب پر مقدم رکھنا ضروری ہے۔
۔ (📗فتاوی امجدیہ جلد ۴ صفحہ ۲۲۲ )
شریعت کی نافرمانی میں کسی کا کہنا نہیں مانا جائیگا
۔(📗بہار شریعت جلد ۳ حصہ ۱۶ صفحه ۵۸۸ مکتبۃ المدینہ)
کسی کی اطاعت میں احکام شرع کی نافرمانی نہیں کی جا سکتی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ہے حدیث میں ہے ۔
لاطاعة لمخلوق في معصيه الخالق
۔ (📗فتاوی امجدیہ جلد ۴ صفحه ۱۹۸)
اور تاجدار اہلسنت حضور اعلی حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ خدا کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں
۔(📗فتاوی رضویہ مترجم جلد ۲۲ صفحه ۶۵۴)
مذکورہ صورت میں امام پر اور ان سب پر توبہ لازم ہے جن لوگوں نے دیو بندی ( بدعقیدہ ) جانتے ہوئے شادی میں شرکت کی ۔ فتاوی فقیہ ملت میں ہے کہ دیو بندی جانتے ہوئے نکاح پڑھانے کے سبب امام مذکور سخت گنہ گار اور فاسق ہے اور زنا کا دروازہ کھولنے والا ہے اس پرلازم ہےکہ علانیہ توبہ واستغفار کرے نکاح مذکورہ کے باطل ہونے کا اعلان عام کرے اور نکاحانہ پیسہ بھی واپس کرے اگر وہ واپس نہ کرے تو سب مسلمان اس کا بائیکاٹ کریں امام مذکور کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں کہ پڑھنی گناہ اور جو پڑھ لی اس کا دوہرانا واجب ہے
۔(📗فتاوی فقیه ملت جلد ا صفحه ۴۴۱)
فتاوی بریلی شریف میں ہے کہ ۔ دیوبندی وہابی کا نکاح جان بوجھ کر جس امام نے پڑھایا وہ ضرور سخت گنہگارحرام کار ہے اور جو لوگ جانتے ہوئے اس نکاح میں شریک و معاون ہوئے وہ سب بھی سخت گنہ گار ٹھہرے سب پرتوبہ لازم ہے توبہ کریں اور امام جب تک توبہ نہ کرے اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی یعنی پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب ہے بعد توبہ صحیحہ اس کے پیچھے نماز جائز ہے جب کہ اور کوئی وجہ شرعی مانع امامت نہ ہو اور یہ نکاح نہ ہوا
۔(📗فتاوی بریلی شریف صفحه ۱۱۰)
جب تک سب لوگ توبہ نہ کریں مسلمان ان سے ترک تعلق کرے اور جو لوگ لاعلمی میں شریک و معاون ہوئے ان پر الزام نہیں
۔(📗ماخوذ ازضیاء شریعت جلد اول صفحہ ٢٥/٢٤)
والله تعالى اعلم باالصواب
محمد افروز احمد مجاہدی 📝
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے