(88)
۔(کیانماز میں لقمہ لينے سے سجدہ سہو واجب نہيں ہوتاہے)
السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ
سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ۔۔ امام قرات میں بھول جائے تو کیا مقتدی لقمہ دے سکتا ہے، کیا لقمہ دینے اور لینے سے سجدہ سہو لازم نہ ہو گا ؟
سائل محمد غلام شبیر احمد
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ تعالی وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
امام صاحب کے قرات میں بھولنے اور مقتدیوں کے لقمہ دینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ حضور اعلی حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ۔۔ امام جب نماز یا قرات میں غلطی کرے تو اسے بتانے کے لئے لقمہ دینا چاہئے، ہر نماز میں لقمہ دینا درست ہے خواہ فرض ہو یا واجب، تراویح ہو یا نفل ، لقمہ دینے یا لقمہ لینے سے سجدہ سہو لازم نہیں آتا، البتہ اگربھولا اور تین بار سبحان اللہ کہنے کی دیری چپکے کھڑا سو چتا رہا تو سجدہ سہو لازم آئے گا
( فتاوی رضویہ جلد ۷ صفحه ۲۸۸)
فقیہ اعظم ہند حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ، فورا لقمہ دینا مکروہ ہے، تھوڑا توقف چاہئے کہ شاید امام خود نکال لے مگرجب کہ اس کی عادت اسے معلوم ہو کہ رکتا ہے تو بعض ایسےحروف نکلتے ہیں جن سے نماز فاسد ہو جاتی ہے تو فوراً بتائے
(بہار شریعت حصہ ۳ صفحہ ۱۵۱)
(ماخوذازضیاء شریعت جلداول صفحہ ٧٦)
والله تعالی اعلم بالصواب
كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے