(107)
( قبر پر اذان دینا کیسا ہے؟)
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ آج کل قبرستان میں مدفن کرنے کے بعد جو قبر پر اذان دی جاتے ہے کیا یہ درست ہے؟ بکر کہتا ہے کی جائز ہے اور زید کہتا ہے کی جائز نہیں اس مسئلہ کا قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت کریں
المستفتى : سجاد رضا نعیمی
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
قبر پر اذان دینا جائز ہے کیونکہ قرآن وسنت کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی قرآن و سنت میں اس کے منع کی کوئی دلیل ہے۔ بلکہ پانچ نمازوں کے علاوہ ان امور کے لئے اذان جائز ہے ۔ (۱) نو مولود بچے کے کان میں ۔ (۲) مغموم اور دورہ پڑنے والے پر ۔ (۳) غصہ والے پر ۔ (۴) بد اخلاق پر انسان ہو یا ۔ جانور (۵) جب دشمن کے لشکر کا آمنا سامنا ہو جائے اور چلنے والے کے پاس اور کہا گیا ہے میت کو قبر میں اتارتے وقت قیاس کرتے ہوئے اس کے دنیا میں آنے پر ، یونہی چڑیلوں ( جنات بھوت ) کی سرکشی کے وقت یونہی جو کوئی ویران جگہ میں راہ بھول جائے ۔ زید کا یہ کہنا کہ جائز نہیں غلط ہے وہ یا تو جاہل ہے اور اگر جاہل نہیں تو بد مذہب ہے۔
نوٹ : تفصیل کے لئے سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کا رساله ايذان الاجر في اذان القبر کا مطالعہ کریں
۔(ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدچہارم صفحہ ۲۹۳)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے