(98)
مسجد میں اگر بتی جلانا كيسا
سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ۔۔ خوشبو کے لئے اگر بیتی مسجد میں جلانا کیسا ہے جبکہ سننے کو ملا ہے کہ اگر بتی گوبر سے بنتی ہے؟
سائل محمد ریاست حسین قریشی ۔
الـجواب بعون الملک الوہاب
اگر یتی گوبر سے نہیں بلکہ کوئلہ سے بنائی جاتی ہے لہذا اس اگر بتی کو مسجد میں جلانے سے اگر نمازیوں کو کوئی تکلیف نہ ہو تو اس کے جلانے میں کوئی حرج نہیں بلکہ کار ثواب ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے محلوں میں مسجد بنانے کا حکم دیا اور یہ کہ وہ صاف اور خوشبودار رکھی جائیں
(ابوداؤد شریف حدیث نمبر ۴۵۵)
مذکورہ حدیث پاک سے مسجد کو خوشبودار رکھنے کا ثبوت ملتا ہے لہذا مسجد کو عودلوبان اگر بتی جیسی خوشبودار چیزوں سے خوشبودار کر سکتے ہیں لیکن اتنا ضرور یاد رکھیں کہ اگربتی کو سلگانے کے لئے مسجد میں ماچش نہ جلا ئیں بلکہ ماچش اور اگر بتی دونوں مسجد کی حد کے باہر لے جائیں اور وہاں ماچش جلا کر اگر بتی سلگا ئیں پھر اندر لا کر لگائیں کیوں کہ (فتاوی رضویہ جلد ۶ صفحہ ۳۸۱) پر ہے کہ مسجد کو بوسےبچاناواجب ہےلہذا مسجدمیں مٹی کاتیل جلانا حرام مسجد میں دیا سلائی سلگا نا حرام
۔(ماخوذازضیاء شریعت جلداول صفحہ ٢٣٠)
والله تعالى اعلم بالصواب
کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے