(99)
کیا دوبار نماز جنازہ پڑھائی جاسکتی ہے؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کی دو بار نماز جنازہ پڑھائی جاسکتی ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں
المستفتي : محمد ریاض
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
جنازہ کی تکرار ناجائز ہے ہاں اگر ولی کے سواکسی ایسے نے نماز پڑھائی جو ولی پر مقدم نہ ہو اور ولی نے اسے اجازت بھی نہ دی تھی تو اگر ولی نماز جنازہ میں شریک نہ ہوا تو نماز کا اعادہ کر سکتا ہے اور اگر مردہ دفن ہو گیا ہے تو قبر پر نماز پڑھ سکتا ہے اور اگر وہ ولی پر مقدم ہے جیسے بادشاہ و قاضی و امام محلہ کہ ولی سے افضل ہو تو اب ولی نماز کا اعادہ نہیں کر سکتا اور اگر ایک ولی نے نماز پڑھادی تو دوسرے اولیا اعادہ نہیں کر سکتے اور ہر صورت اعادہ میں جو شخص پہلی نماز میں شریک نہ تھا وہ ولی کے ساتھ پڑھ سکتا ہے اور جو شخص شریک تھا وہ ولی کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا ہے کہ جنازہ کی دو مرتبہ نماز ناجائز ہے سوا اس صورت کے کہ غیر ولی نے بغیر اذن ولی پڑھائی۔
۔(الفتاوى الهندية كتاب الصلوة الباب الهادي والعشرون في الجنائز الفصل الخامس، ج ، اص ١٦۳ / بہار شریعت حصہ چہارم صفحه ٨٤۱)
اور اگر کسی نے جان بوجھ کر نماز پڑھائی تو وہ گنہگار ہوا وہ فوراً تو بہ کرے اور لوگوں کو بتادے کہ پہلی بار جو نماز ہوئی تھی وہ صحیح ہے ۔
۔(ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدچہارم صفحہ ٢٠٠)
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے