(100)
حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نماز جنازہ کس نے پڑھا ئی؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ کس نے پڑھائی جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی؟
المستفتى :- محمد مقیم رضا
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الو ہاب
سرکار اعلی حضرت عظیم البرکت فاضل بریلوی ربہ القوی تحریر فرماتے ہیں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازہ اقدس پر نماز کے باب مختلف ہیں ایک کے نزدیک یہ نماز معروف نہیں ہوئی بلکہ لوگ گروہ در گروہ حاضر آتے اور صلوۃ وسلام عرض کرتے بعض احادیث بھی اسکی موئد ہیں
کما بیناھافی رسالتنا النهي الحاجز عن تكرار صلوة الجنائز
اور بہت علماء یہی نماز معروف مانتے ہیں۔
امام قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ نےاس کی تصحیح فرمائی کما فی شرح المؤطا للزر قانی سیدناصدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تسکین فتن و انتظام امت میں مشغول جب تک ان کے دست حق پرست پر بیعت نہ ہوئی تھی لوگ فوج در فوج آتے اور جنازہ انور پر نماز پڑھتے جاتے جب بیعت ہوئی ولی شرعی صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوئے انہوں نے جنازہ مقدس پر نماز پڑھی پھر کسی نے نہ پڑھی کہ بعد صلوۃ ولی پھر اعادہ نماز جنازہ کا اختیار نہیں ان تمام مطالب کی تفصیل قلیل فقیر (سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ ) کے رسالہ
النھی الحاجز عن تكرار صلوة الجنائز ..
مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی میں ہے ان ابابكر رضى الله تعالى عنه كان مشغولا بتسوية الاموروتسكين الفتنة فكانوا يصلون عليه قبل حضوره وكان الحق له لانه هو خليفه فلما فرغ صلى عليه ثم لم يصل احد بعده عليه،،،
بزار حاکم و ابن منبع و بہیقی و طبرانی معجم اوسط میں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب میرے غسل و کفن سے فارغ ہو تو مجھے نعش مبارک پر رکھ کر باہر چلے جاؤ سب سے پہلے جبرئیل مجھ پر صلوات کریں گے پھر میکائیل پھر اسرافیل پھر ملک الموت اپنے سارے لشکروں کے ساتھ پھر گروہ در گروہ میرے پاس حاضر ہو کر مجھ پر دورودو سلام عرض کرتے جاؤ ۔
۔(فتاوی رضویہ شریف جلد چہارم صفحہ ۵۴ رضا اکیڈمی )
۔(ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدچہارم صفحہ ٢٠٧)
والله تعالى اعلم بالصواب
کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے