Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

کیاعورت کو قبر میں کوئی بھی اتار سکتا ہے ؟

 (109)


کیاعورت کو قبر میں کوئی بھی اتار سکتا ہے ؟ 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید کا کہنا ہے کہ کوئی بھی اتار سکتا ہے اور بکر کا کہنا ہے کہ نہیں اتار سکتا ہے کس کا کہنا دورست ہے؟

 المستفتی - اسلم رضاد کا جھار کھنڈ

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

عورت کو قبر میں اتارنے والا محرم ہوں، اور اگر یہ نہ ہوں تو دیگر رشتہ دار اتارے اور اگر وہ بھی نہ ہوں تو پرہیز گار اجنبی بھی اتار سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ! حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ عورت کا جنازہ اتارنے والے محارم ہوں، یہ نہ ہوں تو دیگر رشتہ والے یہ بھی نہ ہوں تو پرہیزگار اجنبی کے اتارنے میں مضایقہ نہیں ۔ 
 بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ ۸۴۴

اور حضور سیدی سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ شوہر کو بعد انتقال زوجہ قبر میں خواہ بیرون قبر اس کا منہ یا بدن دیکھنا جائز ہے۔ قبر میں اتارنا جائز ہے اور جنازہ تو محض اجنبی تک اوٹھاتے ہیں۔ 

فتاوی رضویہ جلد چہارم صفحہ ۹۶، مکتبہ رضویہ آرام باغ روڈ کراچی پاکستان 

ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدچہارم صفحہ ٢٦٢

 والله تعالى اعلم بالصواب

كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے