(114)

حالت نماز میں ٹوپی گر جائے تو اٹھا سکتے ہیں یا نہیں؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نماز پڑھتے وقت سر سے ٹوپی گر جائے تواٹھالینی چاہئے یا نہیں ؟

المستفى :-رمضان علی 

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

اٹھا لینے میں حرج نہیں بلکہ افضل ہے جبکہ عمل کثیر نہ پایا جائے اور اگر انکساری کی نیت ہوا تو نہ اٹھانا افضل ہے جیسا کہ فتاوی رضویہ میں ہے کہ اٹھا لینا افضل ہے جبکہ بار بار نہ گرے اور اگر تذلل و انکسار کی نیت سے سر برہنہ رہنا چاہے تو نہ اٹھا نا فضل ۔

در مختار میں ہے : سقط قلنسوته فاعادتها افضل الا اذا احتاجت لتكوير او -عمل کثیر نمازی کی ٹوپی گر جائے تو اس کا اٹھانا افضل ہے مگر اس صورت میں کہ باندھنے کی حاجت ہو یا عمل کثیر لازم آرہا ہو ۔در مختار باب ما یفسد الصلوة و مایکره فیه مطبوع مطبع مجتبائی دہلی / ۹۱

رد المحتار میں ہے: الظاهر ان افضلية اعادتها حيث لم يقصد بتركها -التذلیل ظاہر یہی ہے کہ اس کا اٹھانا تب افضل ہے جب اس کے ترک میں تذلیل کا ارادہ نہ ہو۔ رد المحتار باب مکروبات الصلوة مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷۴ بحوالہ فتاوی رضویہ جلد ۷ ص۲۹۸ ، دعوت اسلامی بہار شریعت میں ہے نماز میں ٹوپی گر پڑی تو اٹھا لینا افضل ہے، جب کہ عمل کثیرکی حاجت نہ پڑے ، ورنہ نماز فاسد ہو جائے گی اور بار بار اٹھانی پڑے تو چھوڑ دے اور نہ اٹھانے سےخضوع مقصودہوتونہ اٹھانا افضل ہے 

حصہ سوم مکروہات کا بیان ٦۳۱، دعوت اسلامی 

ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ١٥٩

واللہ تعالی اعلم بالصواب

كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com