(115)
کسی کے خاطر رکوع کو طول دینا کیسا ہے؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ امام رکوع میں ہو اور مقتدی نیت باندھنے جار ہا ہو تو رکوع کی سبیح تین سے زائد پڑھ سکتے ہیں؟
المستفى :حافظ اشتیاق احمد
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
جماعت میں شامل کرنے کی غرض سے ایک دو سبیج بڑھانے میں حرج نہیں ہے اور اگر اسکی خوشامد مقصود ہو تو ایک تسبیح بھی بڑھانے کی اجازت نہیں کہ مکروہ تحریمی ہے جیسا کہ علامہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ امام کو کسی آنے والے کی خاطر نماز کا طول دینا مکروہ تحریمی ہے، اگر اس کو پہچانتا ہو اور اس کی خاطر مد نظر ہو اور اگر نماز پر اس کی اعانت کے لئے بقدر ایک دو تسبیح کے طول دیا تو کراہت نہیں ۔
بہار شریعت ح سوم ص ٦۳۰ دعوت اسلامی
سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ اگر کسی خاص شخص کی خاطر اپنے کسی علاقہ خاصہ یا خوشامد کے لئے منظور تو ایک بار سبیح کی قدر بھی بڑھانے کی ہرگز اجازت نہیں بلکہ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ یخشی علیہ امر عظیم یعنی اس پر شرک کا اندیشہ ہے کہ نماز میں اتنا عمل اس نے غیر خدا کے لئے کیا اور اگر خاطر خوشامد منظور نہیں بلکہ عمل حسن پر مسلمان کی اعانت اور یہ اس صورت میں واضح ہے کہ یہ اس آنے والے کو نہ پہچانے یا پہچانے اور اس کا کوئی تعلق خاص اس سے نہ ہو نہ کوئی غرض اس سے اٹکی ہو تو رکوع میں دو ایک سبیح کی قدر بڑھا دینا جائز بلکہ اگر حالت یہ ہے کہ یہ ابھی سر اٹھائے لیتا ہے تو وہ رکوع میں شامل ہونے نہ ہونے میں شک میں پڑ جائے گا تو بڑھا دینا مطلوب اور جو ابھی نماز میں نہ ملے گا مسجد میں آیا ہے وضو وغیرہ کرے گا۔یا وضو کرتا رہے اس کے لئے قدرمسنون پر نہ بڑھائے بلکہ اگر بڑھائےموجب ثقل حاضرین نماز ہو گا تو سخت ممنوع و ناجائز ۔
فتاوی رضویہ جلد ٧ص ۲۹۸ / ۲۹۹ دعوت اسلامی
ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ١٦٠
والله تعالى اعلم بالصواب
كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے