Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

رومال یعنی دستی سر پر باندھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

 (116)

رومال یعنی دستی سر پر باندھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ رو مال یعنی دستی باندھ کر نماز پڑھتے ہیں اور بعض کسان گلے میں ڈالنے والا رو مال سر پر باندھ کر نماز پڑھتے ہیں تو کیا نماز ہو ۔ جائے گی یا کراہت ہے؟

المستفى : ۔ مولاناعبدالستار


وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

دستی باندھ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ، اور رومال اگر بڑا ہو کہ اتنے پیچ آسکیں جو سر کو چھپا لیں تو حرج نہیں کہ وہ عمامہ کے حکم میں ہے جبکہ اس کے نیچے ٹوپی ہو ، اور اگر رومال کے نیچے ٹوپی نہ ہو یا پھر رومال اتنا چھوٹا ہو کہ اسکے پیچ سر کو نہ چھپاسکیں جب بھی نماز مکروہ تحریمی ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے کہ: رومال اگر بڑا ہو کہ اتنے پیچ آسکیں جو سر کو چھپا لیں تو وہ عمامہ ہی ہو گیا، اور چھوٹا رو مال جس سے صرف دو ایک پیچ آسکیں لپیٹنا مکروہ ہے، اور بغیر ٹوپی کے عمامہ بھی نہ چاہئے نہ کہ رومال ، حدیث میں ہے: {فرق ما بينناوبين المشركين العمائم على القلانس} ہم میں اور مشرکوں میں ایک فرق یہ ہے کہ ہمارے عمامے ٹوپیوں پر ہوتے ہیں ۔ {سنن ابو اد اؤ د باب فی العمائم مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۰۸ بحوالہ فتاوی رضویہ جلد ۳۰۱/۳۰۰/۷ / دعوت اسلامی}

اور بہار شریعت میں ہے کہ اعتجار یعنی پگڑی اس طرح باندھنا کہ پیچ سر پر نہ ہو مکروہ تحریمی ہے، نماز کے علاوہ بھی اس طرح عمامہ باندھنا مکروہ ہے ۔ 

حصہ سوم ص٦٢٦ دعوت اسلامی

ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ١٦۲

والله تعالى اعلم بالصواب

کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے