Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

پہلی رکعت میں قریش اور دوسری میں کوثر کی تلاوت کرنا کیسا ہے؟

 (117)

پہلی رکعت میں قریش اور دوسری میں کوثر کی تلاوت کرنا کیسا ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید جو امام ہے بکر جو مقتدی ہے بکر کا کہنا ہے نماز کی پہلی رکعت میں سورہ قریش اور دوسری میں سورہ کوثر کی تلاوت کرنا منع ہے کیا بکر کی بات درست ہے؟ اور کیوں پڑھنا منع ہے؟

المستفتی:-فیروز عالم اشرفی 

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک والوہاب

بکر کی بات درست ہے کیونکہ پہلی رکعت میں کوئی سورت پڑھی اور دوسری رکعت میں درمیان والی ایک چھوٹی سورت چھوڑ کر دوسری پڑھی تو ایسا کرنا مکروہ ہے مثلا پہلی رکعت میں تبت یدا پڑھی اور دوسری میں قل اعوذ برب الفلق پڑھی تو یہ مکروہ ہے اس صورت میں نماز تو ہو جائے گی مگر کراہت کے ساتھ ۔

حضور صدر الشریعہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں پہلی رکعت میں کوئی سورت پڑھی اور دوسری میں ایک چھوٹی سورت درمیان سے چھوڑ کر پڑھیں تو مکروہ ہے اور اگر وہ درمیان کی صورت بڑی ہے کہ اس کو پڑھے تو دوسری کی قرآت پہلی سے طویل ہو جائے گی تو حرج نہیں جیسے والتین کے بعد انا انزلنا پڑھنے میں حرج نہیں اور اذاجا ، کے بعد قل ھو اللہ پڑھنا نہیں چاہئے۔

بہار شریعت ، حصّہ ۳/ص ۵۴۹ مکتبہ مدینہ دہلی 

ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ١٦٥

 والله تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے