(118)
بلا عذر سنت غیر مؤکدہ اور نفل ترک کرنا کیسا ہے؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ بلاعذر سنت غیر مؤکدہ اور نفل نماز ترک کرنا کیسا ہے اور اگر امام سنت غیر مؤکدہ اور نفل بار بار ترک کرے تو اس پر شریعت کا کیا حکم ہے؟
المستفتى : محمد ریاض الدین قادری
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک والوہاب
بلا عذر سنت غیر مؤکدہ اور نفل نماز کے تارک کی اقتداء کرنے میں کوئی حرج نہیں کیوں کہ سنت غیر مؤکدہ اور نفل کے ترک کرنے سے کراہت لازم نہیں آتی جیسا کہ بحر الرائق میں ہے لا يلزم من ترك المستحب ثبوت الكراهة اذ لا بدلها من دليل خاص ( باب صلاة العيدين ج ۲ ص ۲۸٤)
اور سیدی سرکارا علیحضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ حدیث پاک تحریر فرماتے ہیں لما حضر ابابكرن الموت دعا عمر فقال اتق الله يا عمر واعلم ان له عملا بالنهار لا يقبله بالليل و عملا بالليل لا يقبله بالنهار واعلم انه لا يقبل نافلة حتى تؤدى الفريضة
یعنی جب خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سید ناصدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نزع کا وقت ہوا امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر فرمایا : اے عمر اللہ سے ڈرنا اور جان لو کہ اللہ کے کچھ کام دن میں ہیں کہ انھیں رات میں کرو تو قبول نہ فرمائے گا اور کچھ کام رات میں کہ انھیں دن میں کرو تو مقبول نہ ہوں گے، اور خبر دار رہو کہ کوئی نفل قبول نہیں ہوتاجب تک فرض ادا نہ کر لیا جائے ۔
فتاوی رضویہ ج۔ ۲ /۱۸۳/ دعوت اسلامی
لہذا جس کے ذمہ قضاء نمازیں باقی ہوں اسے چاہئے کہ نفل کی جگہ قضاء نمازیں اداکریں کیوں کہ ادائیگی میں جتنی تاخیر ہوگی گناہ کا سبب بنے گا اور اور نفل قبول بھی نہ ہوگی اس لئے بہتر ہے جلد از جلد قضاء نمازیں ادا کرے ۔
ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ١٦٦
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے