(119)
جاکٹ موڑ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر جاکٹ موڑ کر نماز پڑھیں گے تو نماز ہوگی کہ نہیں ؟
المستفتي : محمد سرفراز عالم
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
سردیوں میں جو سوئٹر یا جاکٹ وغیرہ اندر سے موڑ کر نماز پڑھتے ہیں یہ " کف ثوب" نہیں کیونکہ یہ معتاد طریقہ سے ہے اسلئے نماز میں کوئی حرج نہیں فقہاء کی اصطلاح میں "کف ثوب" یہ ہے کہ کپڑے کو عادت کے خلاف موڑ کر استعمال کیا جائے۔ حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کسی کپڑے کو ایسا خلاف عادت پہننا کہ کوئی مہذب آدمی مجمع یا بازار میں نہ کر سکے اور اگر کرے تو بے ادب خفیف الحرکات سمجھا جائے یہ مکروہ ہے۔
فتاوی فیض الرسول ، ج ا ص ۳۷۳
ہاں اس طرح سوئٹر یا جاکٹ کو پہن کر نماز پڑھنا جسے مہذب آدمی مجمع یا بازار میں نہ کر سکے اور اگر کرے تو بے ادب خفیف الحرکات سمجھا جائے یہ مکروہ ہے ۔ درمختار میں ہے " و کره کفه ای رفعه ولو لتراب کمشمر کم او ذيل او صلاته فى ثياب بذلة يلبسها في بيته و مهنته اى خدمة ان له غيرها و الا لا
فتاوی امجدیہ جلد اول صفحہ۱۹۳ هکذافی فتاوی رضویہ قدیم جلد سوم صفحه ۴۴۷/ ۴۴۸ مکتبہ رضویہ آرام باغ روڈ کراچی پاکستان
خلاصہ کلام یہ کہ سوئٹر جاکٹ وغیرہ کو خلاف عادت پہن کر نماز پڑھنامکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ اور اگر سوئٹر یا جاکٹ وغیرہ کو نماز میں اس طرح پہنتے ہیں کہ عرف عام میں اسے معیوب نہیں سمجھتے تو اس طرح پہن کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ۔
ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ١٧٤
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے