Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

رمضان میں مقتدی دعائے قنوت پڑھے گا یا نہیں؟

 (120)

رمضان میں مقتدی دعائے قنوت پڑھے گا یا نہیں؟

السلام ام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ رمضان میں تراویح کے بعد جو وتر کی نماز ہوتی ہے اس میں مقتدی دعائے قنوت پڑھے یا نہیں ؟ حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی 

المستفتی: کمال اختر رضوی

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

مقتدی کو دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے چاہے وہ جماعت سے پڑھے یا تنہا پڑھے جیسا کہ حضور صدر الشریعہ رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ وتر میں دعائے قنوت کا پڑھنا واجب ہے اور آہستہ پڑھے اب وہ چاہے امام ہو یا منفرد ہو یا مقتدی ہو ادا ہو یا قضاء رمضان میں ہو یا اور دنوں میں اور آگے تحریر فرماتے ہیں کہ قنوت وترمیں مقتدی امام کی متابعت ( یعنی امام کےساتھ قنوت پڑھے) کرے اگر مقتدی قنوت سے فارغ نہ ہوا تھا کہ امام رکوع میں چلا گیا تو مقتدی امام کا ساتھ دے ( یعنی مقتدی بھی امام کے ساتھ رکوع میں چلا جائے ) اور اگر امام نے قنوت نہ پڑھی اور رکوع میں چلا گیا اور مقتدی نے ابھی کچھ نہ پڑھا تو مقتدی کو اگر رکوع فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔ جب تو رکوع کرے ورنہ قنوت پڑھ کر رکوع میں جائے ( البتہ امام بھول کر کے بغیر دعائے قنوت کے پڑھے رکوع میں چلا گیا تو سجدہ سہو لازم ہو گا) 

 بہار شریعت حصہ چہارم وتر کا بیان ناشر مکتبۃ المدین، دہلی

ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ١٧٧

و الله تعالى اعلم

کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے