(121)
عشاءپڑھے بغیر و تر جماعت کے ساتھ پڑھنا کیسا ہے؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ جو شخص رمضان المبارک میں عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ ادا نہ کیا تو کیا وہ نماز وتر جماعت کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا ہے؟ اور جو صرف ایک ہی رکعت امام کے ساتھ ادا کیا ہو عشاء کی نماز تو کیا وہ نماز وتر جماعت کے ساتھ پڑھ سکتا ہے کہ نہیں، جو الے کےساتھ جواب دیں آپ لوگوں کی بہت مہربانی ہوگی ۔
المستفتی: محمد صابر رضا بهار
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
رمضان المبارک میں عشاء کی فرض نماز کی جماعت اگر پالی ہے چاہے قعدہ اخیرہ ہی میں کیوں نہ شامل ہوا ہو تب بھی وتر کی نماز جماعت سے پڑھے۔ اور اگر عشاء کی نماز فرض تنہا پڑھا تو وتر بھی تنہا پڑھے جیسا کہ فتاوی رضویہ میں ہے کہ رمضان المبارک میں عشاء کی فرض کی جماعت میں جو شامل نہیں ہوا وہ وتر کی جماعت میں شامل نہیں ہو سکتا۔ جس نے فرض تنہاپڑھے ہوں وہ وتر بھی تنہا پڑھے ۔
فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ ۴۸۱ قدیم
اور اسی طرح در مختار جلد اول صفحہ ۵۲۲ میں ہے مصليه وحده يصليها معه الا ای مصل الفرض وحده يصلى التراويح مع الامام “ اس کے تحت رد المحتار میں ہے اذا لم يصل الفرض معه لا يتبعه في الوتر اھ
لہذا جس کو رمضان المبارک میں فرض نماز کی جماعت مل جائے وہ وتر جماعت سےپڑھ سکتا ہے۔ اور جس کو جماعت نہ ملی ہو وہ تراویح جماعت سے پڑھنے کے بعد وترتنہاپڑھے ۔
فتاوی فقیہ ملت جلد اول ص ۲۰۰
ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ١۷۸
والله اعلم بالصواب
کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے