Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

کیاقبر میں عہد نامہ رکھنا جائزہے؟

 (103)


کیاقبر میں عہد نامہ رکھنا جائزہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلہ میں کہ قبرمیں عہد نامہ رکھنا کیسا ہے؟ ایک شخص کہتا ہے کہ رکھنا صحیح نہیں ہے؟ برائے  کرم جواب عنایت فرمائیں۔

 المستفتی: عبدالرزاق

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

منع کرنے والا خطا پر ہے کیوں کہ عہد نامہ قبر میں رکھنا جائز ہے و درست ہے جیسا کہ علامہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے میں شجرہ یا عہد نامہ قبر میں رکھنا جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ میت کے مونھ کے سامنے قبلہ کی جانب طاق کھود کر اس میں رکھیں، بلکہ درمختار میں کفن پر عہد نامہ لکھنے کو جائز کہا ہے اور فرمایا کہ اس سے مغفرت کی امید ہے اور میت کے سینہ اور پیشانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا جائز ہے ۔ ایک شخص نے اس کی وصیت کی تھی ، انتقال کے بعد سینہ اور پیشانی پر بسم اللہ شریف لکھ دی گئی پھر کسی نے انھیں خواب میں دیکھا ، حال پوچھا؟ کہا: جب میں قبر میں رکھا گیا، عذاب کے فرشتے آئے، فرشتوں نے جب کے پیشانی پر بسم اللہ شریف دیکھی کہا تو عذاب سے بچ گیا۔ 

(بہار شریعت ح ۴ جنازہ کا بیان)

مگر یاد رہے کہ روشنائی یا قلم سے نہیں لکھنا ہے بلکہ انگلی سے لکھیں ہاں اگر کافور سے لکھ دیں تب بھی کوئی حرج نہیں اور عورت کو محارم ہی لکھ سکتے ہیں غیر محارم کو لکھنا جائز نہیں۔ 

(بہار شریعت ح ۴ جنازہ کا بیان)

۔(ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدچہارم صفحہ ٢٥٤)

 والله تعالى اعلم بالصواب

کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے