(104)
قبر پر کب تک مٹی دے سکتے ہیں؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ قبر پر کتنے دن تک مٹی ڈال سکتے ہیں؟ کیا چالس دن یا چالس دن کے بعد ڈال سکتے ہیں؟
المستفتى : ساجد علی کبیری
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
کتب فقہ میں چالیس دن یا کم و بیش کی کوئی قید نہیں ہے کیونکہ مٹی بعد دفن دی جاتی ہے ہاں اگرقبربیٹھ گئی کہ لاش دکھ رہی ہے تو بعد میں مٹی ڈال کر صحیح کر سکتے ہیں بلکہ واجب ہے سیدی سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ قدیم قبراگرکسی وجہ سے کھل جائے یعنی اس کی مٹی الگ ہو جائے اور مردہ کی ہڈیاں وغیرہ ظاہر ہونےلگیں تو اس صورت میں قبر کومٹی دینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کس صورت سے دینا چاہئے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس صورت میں اُسے مٹی دینافقط جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہےکہ ستر مسلم لازم ہے
۔(فتاوی رضویہ جلد ۹ ص ۴۰۴ دعوت اسلامی )
اور اگر بعد میں آیا تو مٹی دے سکتا ہے کوئی حرج نہیں جبکہ وقت دفن ضرورت سے زیادہ قبر پرمٹی نہ ڈالی گئی ہو یعنی قبر سے جتنی مٹی نکلی تھی پوری مٹی نہیں ڈالی گئی تھی تواسی مٹی کوقبر پرڈال سکتے ہیں اور اگر جتنی مٹی قبر سے نکلی تھی پوری مٹی ڈال دی گئی تو اب نہ ڈالنا چاہئے کہ مکروہ ہے جیسا کہ علامہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ جتنی مٹی قبر سے نکلی اس سے زیادہ ڈالنا مکروہ ہے ۔
( بہار شریعت ح ۴ قبر و دفن کا بیان)
۔(ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدچہارم صفحہ ٢٥٦)
والله تعالى اعلم بالصواب
کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے