(105)


 اپنی زندگی میں قبر بنوانا کیسا ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ حالت زندگی میں اپنی قبر بنوانا کیسا ہے؟

المستفتى:-نوشادعالم برکاتی 

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

زندگی ہی میں پہلے سے اپنے لئے قبر نہ بنانا چاہئے کہ بے کار اور بے معنی ہے اس لئے کہ معلوم ہی نہیں کہ اس کا انتقال کب اور کہاں ہوگا اللہ عز وجل کا ارشاد پاک ہے {و ماتدری نفس بای ارض تموت}

( سورة لقمان آیت ۳۴)

لہذا اپنی حیات ہی میں اپنے لئے قبر تیار کروانا منع ہے در مختار باب صلاۃ الجنازۃ میں ہے {والذي ينبغي ان لا يكره تهيئة نحو الكفن بخلاف القبر لقوله تعالى وما تدرى نفس بای ارض تموت} 

(جلد ۳ صفحه ۱۵۴ کتاب الجنائز)

اسی طرح ایک سوال کے جواب میں اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کفن پہلے سے تیار کرنے میں کوئی حرج نہیں اور قبر پہلے سے بنانا نہ چاہئے ۔ 

۔(فتاوی رضویہ جلد ۴ صفحہ ۸۲ / بحوالہ فتاوی مرکز تر بیت افتا جلد ا صفحہ ۳۶۴) -

 والله تعالی اعلم بالصواب

كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی 

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com