(134)
وتر کی نیت میں واجب کہنا ضروری ہے یا نہیں؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ وتر کی نماز میں نیت کس طرح کرے؟کیالفظ واجب لگاناضروری ہے
المستفى : عاشق على
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
نیت دل کے ارادے کا نام ہے جیسا کہ بخاری شریف کی پہلی حدیث ہے۔ انما الاعمال با النیات یعنی کسی نے زبان سے نہ کہا بس دل میں وتر کی نیت کر کے نماز پڑھ لی نماز ہوگئی مگر زبان سے کہہ لینا افضل ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے نیت کی میں نے تین رکعت نماز وتر واجب واسطے اللہ تعالیٰ کے منھ میرا کعبہ شریف کی طرف اللہ اکبر ۔
لفظ واجب لگا نا ضروری نہیں ہے البتہ کہ لینا چاہئے کہ افضل ہے جیسا کہ سرکاراعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ وتر کی نیت تو ضرور ہی ہے پھر چاہے اسی قدر پر قناعت کرےاور بہتر یہ ہے کہ وترواجب کی نیت کرے کہ ہمارے مذہب میں وتر واجب ہی ہیں اور اگر سنت بمعنی مقابل واجب کے نیت کی تو ہمارے امام کے نزدیک وتر ادا نہ ہوں گے فی الدرالمختار لابد من التعيين عند النية لفرض انه ظهر اوعصرو واجب انه وتراونذر در مختار میں ہے نیت کے وقت اس بات کا تعین کہ یہ فرض ہے مثلاً یہ ظہر و عصر کی نماز ہے یاواجب مثلاً وتریا نذرکی نمازہےضروری ہے۔ در مختار باب شروط الصلوة مطبع مجتبائی دہلی بھارت١/ ۲٧
وفي رد المحتار اى لا يلزمه تعيين الوجوب وان كان حنفيا ينبغي ان ينويه ليطابق اعتقاده، الخ اور رد المحتار میں ہے کہ تعین وجوب لازم نہیں ، ہاں اگر وہ حنفی ہو تو مناسب یہی ہے کہ اس کی نیت کرے تا کہ وہ اس کے اعتقاد کے مطابق ہو جائے الخ
ردالمحتار باب شروط الصلوة مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /٤۱۹، بحوالہ فتاوی رضویہ جلد سے۷ص ۴۲۰ / دعوت اسلامی
ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ۱۹۵
والله تعالى اعلم بالصواب
کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے