(135)
ایک مسجد میں فرض پڑھی اور تراویح دوسری میں تو وتر تنہا پڑھےیا جماعت سے؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد میں عشاء کی نماز با جماعت اداکی اور تراویح کے لئے دوسری مسجد میں آیا تو وتر کی نماز جماعت سے پڑھے یا تنہا پڑھے گا؟
المستفى : - اعجاز احمد قادری
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
اگر کسی نے ایک مسجد میں عشاء کی نماز باجماعت ادا کی اور تراویح کی نماز کے لئے دوسری مسجد میں آیا تو وتر کی نماز با جماعت ادا کرے گا۔ جیسا کہ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی رضوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ : رمضان شریف میں وتر جماعت کے ساتھ پڑھنا افضل ہے خواہ اسی امام کے پیچھے جس کے پیچھے عشاءوتر اویح پڑھی یا دوسرے کے پیچھے۔
بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم صفحه ۶۹۲
ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ١٩٤
والله تعالى اعلم بالصواب
كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے