(136)
اگر فرض ادا نہ کریں تو کیا نفل قبول نہیں ہوگا ؟
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید کا کہنا ہے کہ جب تک کوئی بھی انسان اپنا فرض نماز ادا نہیں کر لیتا تب تک اس کو نفل نماز کا ثواب نہیں ملتا کیا زید کا کہنا درست ۔ ہے؟ حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں برائے کرم مہربانی ہوگی۔
المستفتی: محمد علی رضا
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
ہاں زید کا کہنا صحیح و درست ہے جیسا کہ حدیث شریف میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: و النظم للاول "مثل المصلى كمثل التاجر لا يخلصله ربحه حتى يخلص له رأس مال كذالك المصلى لا تقبل نافلته حتى يؤدى الفريضة " نمازی کی مثال تاجر کی طرح ہے کہ اس کا نفع کھرا نہیں ہوتا جب تک وہ اپنا راس المال کھرانہ کرلے یوں ہی نمازی کے نفل قبول نہیں ہوتے جب تک وہ اپنے فرائض نہ ادا کرے ۔
السنن الکبری جلد نمبر ۲ صفحہ نمبر۵۴۱
اور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: ” جب تک فرض ذمہ پر باقی رہتا ہے کوئی نفل قبول نہیں کیا جاتا “ (الملفوظ حصہ اول صفحہ نمبر ۶۲)
لہذا جن کے ذمہ قضا نماز میں باقی ہیں وہ نفل و سنت غیر مؤکدہ کی جگہ پر جلد سے جلد اپنی قضا و قضائے عمری پوری کریں ۔
ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ۲۰۸
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے