Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

دعائے قنوت میں رفع یدین کیوں کرتے ہیں؟

(124)

دعائے قنوت میں رفع یدین کیوں کرتے ہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ وتر کی نماز میں ہم تیسری رکعت میں جو نیت توڑ کر پھر سے نیت باندھ کر دعائے قنوت پڑھتے ہیں تو معلوم یہ کرنا ہے کہ ہم تیسری رکعت میں نیت تو ڑ کر دوبارہ کیوں باندھتے ہیں جواب عنایت فرمائیں

المستفتي : محمد راحت

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب 

نماز وتر کی تیسری رکعت میں نیت توڑی نہیں جاتی ہے بلکہ اس طرح کرنے کا حکم حدیث شریف سے ثابت ہے نماز وتر میں تکبیر اس لئے کہی جاتی ہے کیونکہ آقا علیہ الصلوۃ و السلام کا فرمان ہے لا ترفع الايدى الا في سبع مواطن“ کہ ہاتھ نہ اٹھایا جائے مگر سات جگہوں میں ۔ (شامی ۵۰٦:۱)

تکبیر تحریمہ دعائے قنوت تکبیرات عیدین، استلام الحجر ، صفا مروہ میں عرفات میں ، شیطان کو کنکریاں مارنے کے وقت یعنی ان سات جگہوں پر ہاتھ اٹھانا سنت ہے۔
بہار شریعت میں ہے وتر کی تیسری رکعت میں قرات سے فارغ ہو کر رکوع سے پہلے کانوں تک ہاتھ اُٹھا کر اللہ اکبر کہے جیسے تکبیر تحریمہ میں کرتے ہیں پھر ہاتھ باندھ لے اور دعائے قنوت پڑھے، دعائے قنوت کا پڑھنا واجب ہے اور اس میں کسی خاص دعا کا پڑھناضروری نہیں، بہتر وہ دعائیں ہیں جو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور ان کے علاوہ کوئی اور دعا پڑھے جب بھی حرج نہیں لیکن سب میں زیادہ مشہور دُعا دعائے قنوت ہے ۔

بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ ٦۵۷؛ وتر کا بیان
 
ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ۱۸٤

والله اعلم بالصواب

كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے