Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

رمضان میں وتر امام سری پڑھا دے تو کیا حکم ہے؟

 (125)

رمضان میں وتر امام سری پڑھا دے تو کیا حکم ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ رمضان شریف میں وتر کی نماز اگر امام نے سری پڑھایا تو نماز ہوگی یا نہیں؟ 

المستفتی: محمد افتخار  بہار

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملك الوهاب

رمضان المبارک کے مہینے میں باجماعت وتر کی تینوں رکعات میں قرآت بالجہر واجب ہے لہذا ترک واجب پر سجدہ سہو کرے گا جیسا کہ نور الایضاح فصل في واجبات الصلوة میں ہے و جهر الامام بقرأة الفجر واولي العشائين ولوقضاء والجمعة والعيدين والتراويح والوتر فی رمضان

 اور امام کا جہر کرنا فجر کی قرآت میں اور مغرب وعشاء کی پہلی دورکعتوں میں اگر چہ وہ قضاہی ہوں اور جمعہ عیدین تراویح اور رمضان کی وتر میں صورت مسئولہ میں اگر امام نے وتر کی نماز میں سری قرآت کی تو ترک واجب کی وجہ سے سہوا پر سجدہ سہو واجب تھا اور عمدا پر واجب الاعادہ اور اگر ایسا سہوا ہوا تھا لیکن سجدہ سہو کئے بغیر نماز پوری کرلی تو وقت گزرنے کے بعد بھی ان رکعتوں کا اعادہ واجب ہے جیسا کہ علامہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں قصدا واجب ترک کیا تو سجدہ سہو سے وہ نقصان دفع نہ ہو گا بلکہ اعادہ واجب ہے، یونہی اگر سہوا واجب ترک ہوا اور سجدہ سہو نہ کیا جب بھی اعادہ واجب ہے ۔ 

بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ ۷۰۸ دعوت اسلامی

ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ۱۸۸

والله تعالى اعلم بالصواب

کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے