Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

لقمہ دینے کی ابتداء کب سے ہے؟

 (160)


لقمہ دینےکی ابتداء کب سے ہے؟


السلام عليكم ورحمة اللہ وبركاتہ

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نماز میں جو لقمہ دیتے ہیں اسکی ابتداء کب سے ہوئی مدلل جواب دیگر عند اللہ ماجور ہوں. 

المستفتى : محمد مناظر حسین 

وعليكم السلام ورحمة اللہ وبركاتہ

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

لقمہ کی ابتداء حضور نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ہی زمانے سے ہے حدیث شریف میں ہےکہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں صلوۃ فقرا سورة فاسقط منها آية فلما فرغ قلت يا رسول الله ﷺ آية كذا و كذا انسخت قال لا قلت فأنك لم تقرأها قال افلاً لقنتنيها ،، رسول اللہ صلّی اللہ تعالی علیہ وسلم نے نماز پڑھائی آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک سورت کی تلاوت کی اس میں سے ایک آیت چھوڑ دی جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا فلاں آیت منسوخ ہو گئی ہے؟ فرمایا نہیں میں نے عرض کیا آپ نے اسے نہیں پڑھا ؛ فرمایا تم نے مجھے اس کے بارے میں لقمہ کیوں نہیں دیا ؟ (سنن دارقطنی ، جلد ۲ صفحہ ۲۵۵؛ موسسہ الرسالہ بیروت )

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ارشاد فرماتے ہیں اذا اسطتعمكم الامام فاطمعوه جب امام تم سے لقمہ چاہے تو لقمہ دو۔ (سنن دارقطنی جلد ۲ صفحہ ۲۵۵ موسسہ الرسالہ بیروت ) حضرت نافع رضی اللہ تعالی عنہ ارشاد فرماتے ہیں صلى بنا ابن عمر رضی الله تعالى عنهما قال فتردد قال ففتحت عليه فأخذ عنی “ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے ہمیں نماز پڑھائی بھول گئے تو میں نے انھیں لقمہ دیا انھوں نے مجھ سے لقمہ لے لیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد ا صفحہ ۵۲۱ مکتبہ امدادیہ ملتان بحوالہ احکام لقمہ صفحہ ۷ / ۸ مکتبہ بہارشریعت داتادربارمارکیٹ لاہور ) 

والله اعلم بالصواب

محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے