Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

کیا لقمہ لینے سے سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے؟

 (159)

کیا لقمہ لینے سے سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے؟


السلام عليكم ورحمة اللہ وبركاتہ

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ عشاء کی نماز پڑھا رہے تھے قعدہ اولی میں امام کو بیٹھنا تھا لیکن کچھ ہی کھڑے ہوئے تھے جب تک چند مقتدیوں نے لقمہ دیا پھر امام صاحب بیٹھ گئے اور آخر میں سجدہ سہو بھی نہیں کئے اب کیا جتنے لوگوں نے لقمہ دیا ان سب کی نماز ہوگی یا نہیں حوالے کے ساتھ جواب دیں آپ لوگوں کی مہربانی ہوگی۔

المستفتی: محمد صابر رضا رضوی

وعليكم السلام ورحمة اللہ وبركاتہ

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

صورت مسئولہ میں بر صدق مستفتی امام وجملہ مقتدیین کی نماز ہوگئی فتاوی فیض الرسول میں ہے: اگر امام کھڑا ہونے کے قریب تھا یعنی بدن کے نیچے کا آدھا حصہ سیدھا ہو گیا اور پیٹھ میں خم باقی تھا مقتدی کے لقمہ دینے پہ بیٹھ گیا اور آخر میں سجدہ سہو کر لیا تو نماز پوری ہوگئی اور اگر سجدہ سہو نہیں کیا تو نماز کا اعادہ واجب ہے۔

اور مراقی الفلاح مع طلطاوی ص ۲۵۴ میں ہے ان عاد هو الى القيام اقرب بأن استوى النصف اسفل مع الحناء الظهر و هو الاصح في تفسيره سجد للسهو “ اور اگر بیٹھنے کے قریب تھا یعنی ابھی جسم کے نیچے کا آدھا حصہ سیدھا نہ ہوا تھا لقمہ دینے پر بیٹھ گیا تو سجدہ سہو واجب نہیں نماز پوری ہو گئی۔

ردالمحتار جلد اول ص ۹۹۴ میں ہے اذا اعاد قبل يستقيم قائما وكان الی القعود اقرب فأنه لا سجود عليه فى الاصح وعليه الاكثر اه 

 بحوالہ فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحه ۳۶۱ باب سجود السهو اکبربک سیلرز لا ہور 

واللہ اعلم بالصواب

محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے