(162)
فجر قضا ہو گئی تو جمعہ کی امامت کرنا کیسا ہے؟
السلام عليكم ورحمة اللہ وبركاتہ
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کسی امام صاحب سے نیند کے غلبہ میں فجر کی نماز چھوٹ گئی تو اس امام صاحب کے پیچھے جمعہ کی نماز کا کیا حکم ہے؟ اور امام نے وہ فجر کی قضاء پڑھ لی ہو تو کیا حکم ہے؟
المستفتی: ساجد رضا
وعليكم السلام ورحمة اللہ وبركاتہ
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
اگر کسی کی نماز سونے کہ وجہ سے یا بھولنے کی وجہ سےقضاء ہو جائے تو بیدار ہونے پر پڑھ لے جبکہ مکروہ وقت نہ ہو کہ اس کا وہی وقت ہے تو اس پر قضا کا گناہ بھی نہ ہو گا جیسا کہ حدیث شریف میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوتے میں (اگر نماز جاتی رہی) تو قصور نہیں، قصور تو بیداری میں ہے ۔ (صحیح مسلم)
ایک دوسری حدیث میں ہے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جو نماز سے سو جائے یا بھول جائے تو جب یاد آئے پڑھ لے کہ وہی اس کا وقت ہے۔ (صحیح بخاری و مسلم )
اور علامہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں سوتے میں یا بھولے سے نماز قضا ہو گئی تو اس کی قضا پڑھنی فرض ہے، البتہ قضا کا گناہ اس پر نہیں مگر بیدار ہونے اور یاد آنے پر اگر وقت مکروہ نہ ہو تو اسی وقت پڑھ لے تاخیر مکروہ ہے ۔
(بہار شریعت ح ۴ قضا نماز کا بیان)
ہاں اگر بیدار ہونے پر وقت مکروہ نہ تھا پھر بھی نہ پڑھا تو قضا کا گناہ ہو گا لیکن جب بھی پڑھے گا قضاء اس کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گی چونکہ سوال میں مذکور ہے کہ قضا کو امام نے اداکرلیا توکوئی قباحت نہیں ،اور اگر قضابھی نہ پڑھی جب بھی نماز جمعہ ہو جائے گی ہاں اگر صاحب ترتیب سے فجر قضا ہو جائے پھر پڑھے بغیر جمعہ کی نماز پڑھائے تو نماز نہ ہوگی جب کہ قضا یاد ہو اور قضا پڑھنے کے لئے وقت میں گنجائش ہو۔ (عامئہ کتب فقہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے