Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

کیا نماز میں فون کٹ کر سکتے ہیں؟

 (168)

کیا نماز میں فون کٹ کر سکتے ہیں؟


السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نماز میں اگر فون آجائے تو کیا فون کاٹ کے سکتےہیں یا نہیں اور اگر نہیں کاٹ سکتے تو کیوں جواب عنایت فرمائیں؟

 المستفتی: محمد رضا شاه 

وعليكم السلام ورحمۃ اللہ وبركاتہ

 بسم الله الرحمن الرحيم 

الجواب بعون الملک الوہاب

نماز ایک عظیم الشان عبادت ہے اس لئے حکم یہ ہے کہ خشوع خضوع اور پورے وقارواطمینان کے ساتھ نماز پڑھی جائے اور جہاں شور و غل ہو وہاں نماز نہ پڑھی جائے۔ بہار شریعت میں ہے کہ اگر بار بار نماز میں ٹوپی گر جاتی ہو تو چھوڑ دیں نہ اٹھائیں اور ٹوپی نہ اٹھانے سے مقصود خشوع خضوع ہو تو ٹوپی نہ اٹھانا افضل ہے

حصہ سوم جلد اول صفحہ ۱۳۶۱ لمکتبۃ المدینہ

اس سے ہم نماز میں خشوع خضوع کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں : موبائل کی گھنٹی نماز کے خشوع خضوع کو بری طرح متاثر کرتی ہے لہذا اگر نماز کی حالت میں موبائل کی گھنٹی بجنے لگے اور عمل کثیر کئے بغیر گھنٹی بند کرنا ممکن ہو تو جیب کے اوپر ( جیب سے باہر نکال کر نہیں ) سے بٹن دبا کر موبائل کی گھنٹی یا پھر سرے سے موبائل بند کر دینا جائز ہے بشرطیکہ عمل کثیر کی نوبت نہ آئے اگر گھنٹی یا موبائل بند کرنے کے لئے عمل کثیر کی نوبت آجائے تو ایسی صورت میں موبائل کی گھنٹی یا موبائل بند نہیں کرنا چاہئے کیونکہ عمل کثیر کی وجہ سے نماز فاسد ہو جائے گی اور نماز جیسی اہم عبادت اور مہتم بالشان عمل کو باطل کرنا بھی لازم آئے گا جو جائز نہیں ۔ 

(موبائل فون کے ضروری مسائل صفحہ)

 واللہ اعلم بالصواب

محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے