Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

شیشے کے سامنے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

 (172)

شیشے کے سامنے نماز پڑھنا کیسا ہے؟


السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبركاتہ

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر سامنے شیشہ ہو یا مسجد میں ایسا ماربل لگا ہو جس میں تصویر دکھے تو نماز کا کیا حکم ہے؟ مفصل جواب عنایت فرمائیں

المستفتی : عبد الرحمن 

وعليكم السلام ورحمتہ اللہ وبركاتہ

بسم الله الرحمن الرحيم

الجواب بعون الملک الوہاب

شیشے کے سامنے نماز پڑھنے سے نماز ہو جائے گی، البتہ مسجد میں فرش یا دیوار پر لگے ماربل میں تصویر نظر آنے کی وجہ سے نمازی کی نماز میں خلل واقع ہوتا ہو اور نمازی کا دھیان اس طرف جاتا ہوتو نماز مکروہ تنزیہی ہوگئی فقہائے کرام نے قبلہ کی جانب نقش و نگار کو مکروہ فرمایا اس کا سبب یہ ہے کہ نمازی کا دھیان نہ بیٹے ۔ بہار شریعت میں ہے بعض مشائخ دیوار قبلہ میں نقش و نگار کرنے کو مکروہ بتاتے ہیں، کہ نمازی کا دل اُدھر متوجہ ہو گا۔

درمختار ردالمحتار بحوالہ بهار شریعت حصہ ۱۶ آداب مسجد و قبلہ 

فتاوی امجدیہ میں ہے آئینہ سامنے ہو تو نماز میں کراہت نہیں کہ سبب کراہت تصویر ہے اور وہ یہاں موجود نہیں اور اگر اسے تصویر کا حکم دیں تو آئینہ کا رکھنا بھی مثل تصویر نا جائز ہو جائے، حالانکہ بالا جماع جائز ہے اور حقیقت امر یہ ہے کہ وہاں تصویر ہوتی ہی نہیں، بلکہ خطوط شعاعی آئینہ کی صقالت کی وجہ سے لوٹ کر چہرے پر آتے ہیں گویا یہ شخص خود اپنے کو دیکھتا ہے نہ یہ کہ آئینہ میں اس کی صورت چھپتی ہو۔ 

فتاوی امجدیہ جلداول صفحہ ۱۸۴

وقارالفتاوی میں ہے محراب یا قبلہ کی جانب دیوارمیں شیشے اتنی اونچائی پر لگائے جا سکتے ہیں کہ خاشعین ( عاجزی کے ساتھ نماز پڑھنے والے) کی نظر رکوع سے اٹھتے اور سجدے میں جاتے وقت ان پرنہ پڑے اور اگر نیچے لگا دیئے ہیں تو یہ لگا ناناجائز ہے اور اس وجہ سے نماز میں کراہت تنزیہی ہوتی ہے کہ ان پر نظر پڑنے کی وجہ سے خشوع میں فرق آئے گا لیکن آئینے میں آنے والے عکس کا حکم تصویر کا نہیں ہے۔ 

وقارالفتاوی، جلد دوم صفحہ ۲۷۳ اسی میں صفحہ نمبر ۲۵۸/ پر ہے نمازیوں کے آگے اتنی اونچائی تک کہ خاشعین کی

طرح نماز پڑھنے میں جہاں تک نظر آجاتا ہے شیشے لگانا یا کوئی ایسی چیز لگانا جس سے نمازی کا دھیان اورالتفات ادھر جاتا ہو مکروہ ہے۔ لہذا اتنی اونچائی تک کے شیشے ہٹالینا چاہئے، ان شیشوں میں اپنی شکل جو نظر آتی ہے اس کے احکام تصویر کے نہیں لہذا نماز مکروہ تحریمی نہ ہوگی مگر مکروہ تنزیہی ہے۔

لیکن اگر کوئی خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے اور مستحبات نماز ( یعنی حالت قیام میں موضع سجدہ کی طرف نظر کرنا، رکوع میں پشت قدم کی طرف سجدہ میں ناک کی طرف قعدہ میں گود کی طرف، پہلے سلام میں داہنے شانہ کی طرف ) پر عمل بھی کر رہا ہو تو اس کے لئےکوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔ (ماخوذ از بہار شریعت، حصہ سوم، نماز کے مستحبات ) 

واللہ اعلم بالصواب

محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے