(149)
کیاقرض دی ہوئی رقم پربھی زکوٰۃ ہے؟
السلامُ علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔
سوال زید نے رمضان سے پہلے اپنے بارہ لاکھ روپیہ ایک ہوٹل والے کو قرض کے طور پر دیا اور ابھی تک اسے وہ رقم نہیں ملی تو کیا ابھی بھی اس پر ذرا زکوۃ واجب ہے۔شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
سائل عارف رضایوپی
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
جس آدمی کا روپیہ کسی شخص پر باقی ہو تو اسکی زکوۃ اسی شخص پر واجب ہوگی جس کا وہ روپیہ ہے نہ کہ قرض دار پر البتہ ادائیگی اس وقت ہوگی جب کہ قرض لینے والا قرض ادا کردے اور اگر قرض ملنے سے پہلے ہی اس کی زکوۃ دیدی تو زکوۃ ادا ہوگئی جیسا کہ فقیہ اعظم ہند حضور صدرالشریعہ بدرالطریقہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں؛ کہ اگر قرض ایسے شخص پر جو اسکا اقرار کرتا ہے مگر ادا کرنے میں دیر کرتا ہے جب مال ملےگا سالہائے گذشتہ کی بھی زکوۃ واجب ہے
بہار شریعت حصہ پنجم ص ۱۲
فتاوی فقیہ ملت جلد اول ص۲۹۷ در بیان کتاب الزکوۃ
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے