(152)
بیس رکعت تراویح کا ثبوت ؟
السلام عليكم ورحمة اللہ وبركاتہ
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ تراویح بیس رکعت کہاں سے ثابت ہے؟جواب مدلل عنایت کریں
المستفتی: محمد شمشیر رضا نوری
وعليكم السلام ورحمة اللہ وبركاتہ
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ بحوالہ حدیث شریف تحریر فرماتے ہیں کہ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ تراویح کی بیس رکعتیں ہیں اور یہی احادیث سے ثابت بیہقی نے بسندصحیح سائب بن یزید رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کی کہ لوگ فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں بیس رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ اور عثمان وعلی رضی اللہ تعالی عنہما کے عہد میں بھی یونہی تھا۔ اور مؤطا میں یزید بن رومان سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں لوگ رمضان میں تئیس ۲۳ رکعتیں پڑھتے۔ یہقی نے کہا اس میں تین رکعتیں وتر کی ہیں۔ اور مولی علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو حکم فرمایا: کہ رمضان میں لوگوں کو بیس ۲۰ رکعتیں پڑھائے ۔ نیز اس کے بیس رکعت ہونے میں یہ حکمت ہے کہ فرائض واجبات کی اس سے تکمیل ہوتی ہے اور کل فرائض و واجب کی ہر روز بیس رکعتیں ہیں لہذا مناسب تھا کہ یہ بھی بیس ہوں کہ مکمل و برابر عشاء ہوں ۔
بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ نمبر ۳۰ تروایح کا بیان
ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ٢٦٠
والله اعلم بالصواب
كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے