(151)
تراویح کی اجرت لینا کیسا ہے؟
السلام عليكم ورحمة اللہ وبركاتہ
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ حفاظ کرام کو تراویح کی اجرت لینا کیسا ہے؟ اور اگر کسی حافظ نے یہ کہدیا ہوکی میرا مقصد صرف قرآن سنانا ہے تو اس کے لئے جو پیسے دئے جائیں وہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ جواب سے نوازیں حوالے کے ساتھ کرم ہو گا نوازش ہوگی ؟
المستفتي : - عبد الحفيظ
وعليكم السلام ورحمة اللہ وبركاتہ
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
ہمارے محققین اکابر اور دور حاضر کے مستند مفتیان کرام کا فتوی یہی ہے کہ تراویح کا معاوضه " لا اجرة على الطاعة" کے تحت لینا شرعاً جائز نہیں ہے اور رقم طے کر کے تراویح پڑھانا بھی جائز نہیں
وہاں اگرلوجہ اللہ تراویح پڑھانے والا کوئی حافظ نہ ملے تو تراویح پڑھانے والے کو ماہ رمضان میں نائب امام بنایا جائے اس کے ذمے ایک یا دو نماز مقرر کر دی جائے اور معقول تنخواہ طے کردی جائے اگر پہلے سے وہی امام مقرر ہے اور تراویح بھی اسی نے پڑھانی ہے تو اس کی تنخواہ میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا جائے تو جائز ہوگا کیونکہ امامت کی اجرت کو جائز قرار دیا گیاہے امام کو چاہئے کہ اللہ کی رضا کی خاطر پڑھائے معاوضہ طے بھی نہ کرے لینے کی نیت بھی نہ رکھے تاہم مقتدیوں میں سے کوئی امام صاحب کو ہدیہ دینا چاہے تو امام کے لئے ہدیہ لینے کی گنجائش ہے ۔
ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ٢٥٩
واللہ اعلم بالصواب
كتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

1 تبصرے
Mashallah
جواب دیںحذف کریں