(154)
تراویح چار چار رکعت کر کے پڑھنا کیسا ہے؟
السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبركاتہ
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ تراویح کی نماز چار رکعت کر کے پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
المستفتی : عیاض الدین قادری؟
وعليكم السلام ورحمة اللہ وبركاتہ
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب
اگر کسی نے چار رکعت نماز تراویح کی نیت کی اور دو پر قعدہ کیا تو نماز ہو جائے گی مگر کراہت کے ساتھ (کراہت تنزیہہ) اگر دو رکعت کی بجائے چار پر سلام پھیرے گا تو اگر دو پر قعدہ کر لیا ہے تو چار رکعت درست ہوگی ورنہ نہیں یعنی ہر دو رکعت پر قعدہ ہے تو چار یاچارسےزائدرکعتیں بشرط شفع درست ہو جائیں گی، اگر چہ افضل دو دو رکعت پر سلام کر کے پڑھنا ہے، جیسا کہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ تراویح کی بیس رکعتیں دس سلام سے پڑھے یعنی ہر دو رکعت پر سلام پھیرے اور اگر کسی نے بیسوں پڑھ کر آخر میں سلام پھیرا تو اگر ہر دو رکعت پر قعدہ کرتا رہا تو ہو جائے گی مگر کراہت کے ساتھ اور اگر قعدہ نہ کیا تھا تو دو رکعت کے قائم مقام ہوئیں احتیاط یہ ہے کہ جب دو دو رکعت پر سلام پھیرے تو ہر دو رکعت پر الگ الگ نیت کرے اور اگر ایک ساتھ بیسوں رکعت کی نیت کر لی تو بھی جائز ہے ۔
بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ نمبر ۳۱/۳۰
ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ٢٦١
والله اعلم بالصواب
کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی
اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com
https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

0 تبصرے