Ticker

6/recent/ticker-posts

Ad Code

Responsive Advertisement

تراویح اور سنت مؤکدہ کو بلا عذر بیٹھ کر پڑھنا کیسا ؟

(155)


تراویح اور سنت مؤکدہ کو بلا عذر بیٹھ کر پڑھنا کیسا ؟

السلام عليكم ورحمة اللہ وبركاتہ
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ تراویح اور سنت مؤکدہ کو بلا عذر بیٹھ کر پڑھنا کیسا ؟ اور نفل اور سنت غیر مؤکدہ کو بلا عذر بیٹھ کر پڑھنا کیسا ؟ مع حوالہ جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں
المستفتى :محمدایوب رضا 
وعليكم السلام ورحمة اللہ وبركاتہ
بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوہاب 
تراویح اور سنت مؤکدہ اور سنت غیر مؤکدہ اور نفل وغیرہ سب بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں ۔ صرف فرض اور وتر اور عیدین اور فجر کی سنت میں بلا عذر شرعی بیٹھ کر پڑھنے سے نماز نہیں ہوگی۔ جیسا کہ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی محمد امجدعلی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں. فرض و وتروعیدین و سنت فجر میں قیام فرض ہے کہ بلا عذر صحیح شرعی بیٹھ کر یہ نمازیں پڑھے گا نہ ہوگی۔ در مختاردالمحتار جلد اول بحوالہ بہار شریعت جلد اول حصہ سوم 
اور تاج فقہاء حضرت علامہ مفتی اختر حسین قادری علیمی مدظلہ العالی نے لکھا ہے ، سنت فجر کے علاوہ دیگرسنن ونوافل بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں ۔اگر چہ افضل کھڑے ہو کر پڑھنا ہے الفقه علی المذاهب الاربعة میں ہے  اما صلاة السنن والمندوبات ونحوها فان القيام لا يفترض فيها بل تصح من قعود الا ان الحنيفية قالوا كما يفترض القيام في الصلوات الخمس كذلك في صلواة ركعتي الفجر على المصحح
الفقه على المذاهب الاربعۃ جلد اول / فتاوی علیمیہ جلد اول
لہذا علاوہ فجر کی سنت کے ہر سنن و نوافل کو بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں مگر کھڑے ہو کر پڑھے تو زیادہ ثواب ہے۔ اور افضل بھی ہے۔ اور تراویح بلا عذر شرعی بیٹھ کر پڑھنا مکروہ ہے۔ بلکہ بعضوں کے نزدیک تو ہوگی ہی نہیں ۔ 
بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم
ماخوذازفتاوی مسائل شرعیہ جلدسوم صفحہ ٢٧٩
والله تعالی اعلم بالصواب
کتبہ محمد افروز احمد مجاہدی

اسی طرح اور بھی مسائل پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں 

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com

https://afrozahmadmujahidi.blogspot.com


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے